Wednesday, 3 November 2021

قلت خلوص کی ہے محبت کا کال ہے

 قلت خلوص کی ہے، محبت کا کال ہے

اس شہرِ نا سپاس میں جینا محال ہے

پیڑوں پہ چاندنی کے ہیولے ہیں محوِ رقص

کمرے میں تیرگی کی لکیروں کا جال ہے

سانسوں کا ربط جیسے مسلسل عذاب ہو

وہ شخص کیا جیۓ جسے تیرا خیال ہے

لمحوں نے چھین لی ہے رُتوں سے شگفتگی

یہ سال موسموں کے تغیر کا سال ہے

اب تو شکست جاں کے عمل سے نجات دے

یہ ناتواں وجود دکھوں سے نڈھال ہے

چڑیاں چہک چہک کے پریشان ہو گئیں

کوؤں کا شور گھر کی فضا کا وبال ہے

پھولوں کا لمس چاند کی ٹھنڈک بھی ہیچ ہے

وہ خوش بدن تو آپ ہی اپنی مثال ہے

آ، پھر سے میرے پیار کی تقدیس بن نیاز

آ، کانپتے لبوں پہ تِرا ہی سوال ہے


نیاز حسین لکھویرا

No comments:

Post a Comment