کون جانے کہ تری آنکھ کو بھاتا کیا ہے
سب برا ہے تو بتا تُو ہی کہ اچھا کیا ہے
میں وہی ہوں کہ جسے تم نے نکالا تھا کبھی
ہو کے حیران مجھے بام سے تکتا کیا ہے
تو سرِ بام نہ آۓ تو ہے مرضی تیری
بات اتنی ہے تو اس بات پہ جھگڑا کیا ہے
چھوڑ سکتی ہے کسی وقت مجھے اب تو بھی
زندگی تیرے تعلق کا بھروسہ کیا ہے
نوچ کر خونِ جگر پھول کا باتیں نہ بنا
گر چمن اب بھی سلامت ہے تو اجڑا کیا ہے
رنگ تتلی سے لیے ہیں تو تعجب کیسا
تیری تصویرمکمل ہے ادھورا کیا ہے
مجھ کو بچپن سے بڑھاپے کا سفر پیش ریا
اے خدا! میرے مقدر میں یہ لکھا کیا ہے
پھر وہ الفت ہو محبت ہو جدائی ہو عجیب
دوست اس کارِ زیاں میں بھلا رکھا کیا ہے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment