اتنی حیرانگی میسر ہو
خود سے بیگانگی میسر ہو
ہوش اندر سے کھا رہا ہے مجھے
کچھ تو دیوانگی میسر ہو
قصۂ غم جسے سنا پاؤں
کوئی تو آدمی میسر ہو
ایسا ممکن نہیں مجھے مولا
دن کو بھی چاندنی میسر ہو
مجھ کو لگتا نہیں ترے در پر
اب کبھی حاضری میسر ہو
تم پہ کھل جائے گی تری ہستی
ہاں اگر خامشی میسر ہو
درد کے راز کھول دیتی ہے
جس کو بھی بانسری میسر ہو
ایک بھی آدمی نہیں دیکھا
جس کو کچھ زندگی میسر ہو
باطن رجانوی
No comments:
Post a Comment