Friday, 3 December 2021

چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے

 زہر کا دریا


چلو کہ زہر کے دریا کی سیر کی جائے

اسے متھیں اور امرت کی کھوج کی جائے

اپنے خود غرض ارادوں کی باٹ بٹ کر کے

کائنات اک نئی شروع کی جائے

وہ جو دانوؤں کو بھسم کرتی ہو

جو دیوتاؤں کو انسان کرتی ہو

وہ جس میں شیو کو زہر پینا نہ پڑے

وہ کائنات جو سب کو سمان کرتی ہو

وہ جس میں بھیس راہو بدل نہ سکے

بدل بھی لے تو امرت کو پی نہ سکے

وہ جس میں کورووں کی ذات نہ ہو

وہ جس میں سیتا کوئی چرا نہ سکے

میں جانتا ہوں دنیا بدل نہیں سکتی

ایک ہو کر کے ساگر کو متھ نہیں سکتی

یوں ہی خیال سا گزرا ہے بے معانی سا

جس کی تکمیل ہر حال ہو نہیں سکتی

پھر بھی

چل کے دیکھو تو زہر کا دریا

متھنے کی کوششیں تو کرو

کسے پتہ ہے پھر سے امرت نکل ہی پڑے


قلیل جھانسوی

No comments:

Post a Comment