میری حیات نے مجھ کو سفر میں رکھا ہے
سو میں نے ضبط کو قلب و جگر میں رکھا ہے
سکوں ملے گا تجھے چھوڑ دے تعلق سب
مکر فریب فقط، دنیا بھر میں رکھا ہے
تعلقات جو قائم ہیں تو غرض کے عوض
کہ سب نے فائدہ اپنا نظر میں رکھا ہے
میرا شکست زدہ حال ہے دلیل اس کی
کہ اپنی ناؤ کو میں نے بھنور میں رکھا ہے
تُو میری آہ سے بچ کر کہاں تلک جاتا
ان آنسوؤں کا اثر ہر نگر میں رکھا ہے
جو اس کو چھوڑ گیا در بدر بھٹکتا رہا
ہاں یہ اثر تو میرے بام و در میں رکھا ہے
تنا جو کٹ گیا، زندہ نہیں رہا دانی
کہ زندگی کا مسبب شجر میں رکھا ہے
فقیر دانیال بیگ
دانیال بیگ دانی
No comments:
Post a Comment