Saturday, 1 January 2022

جدید ماورائی حد بندی یار جینے بھی دو

 جدید ماورائی حد بندی


خلقتِ دھر نے یہ جو پرکار سے کھینچ رکھے ہیں سب دائرے

احتجاجاً میں ان کو نہیں مانتا

یعنی اٹلی کی سڑکوں سے جتنے بھی سیاح

ہنزہ کے پربت کو چُھونے کی خاطر گھروں سے چلیں

ان کو یہ سرحدی بیریئر روک لیں

اور ڈھاکا میں نوشاد نوری کی بیٹی 

اگر پھر سے لاہور آنے کو ترسے تو قدغن لگے

غار کے آدمی کی یہ تہذیب کتنی اکائیوں میں تحلیل ہوتی گئی

گویا باڑہ ہے بھینسوں کا، چاروں طرف بانس سے بندھے

پھر تو ایسا ہے جتنی سمندر میں ہیں مچھلیاں، وہ بھی پابند ہوں

اور اڑتے ہوئے سب پرندوں کی سرحد بنے

رسیوں سے جکڑ لیجیۓ روشنی چاند کی

پھیلتی خوشبوؤں کے دھن بند ہوں

کرۂ ارض پہ یار جینے بھی دو

آسمانوں پہ بستے ہوئے چند رب کے فرشتوں نے ہامی بھری

تو بناؤں گا دھرتی کی صورت نئی

کھینچ دوں گا زمیں کے میں سر سے نئی مانگ کا بیریئر


عرفان شہود

No comments:

Post a Comment