Sunday, 2 January 2022

پیار خوشبو ہے چھپایا بھی نہیں جا سکتا

 گیت


ان کے بِن تو چین تو پایا بھی نہیں جا سکتا

پیار خوشبو ہے، چھپایا بھی نہیں جا سکتا


کیسے بتلاؤں صنم، یہ تیرے پیار کا غم

نیند چھینی ہے میری کر کے آنکھوں کو یہ نم

اشکِ غم آنکھوں میں آتے ہیں تو ڈھل جاتے ہیں

بوجھ پلکوں سے اٹھایا بھی نہیں جا سکتا

پیار خوشبو ہے، چھپایا بھی نہیں جا سکتا


اک حسیں خواب ہے تُو میری ہمراز ہے تُو

ناز جو تم پہ کرے ایسی مہتاب ہے تُو

چاند کو دور سے ہم دیکھ لیا کرتے ہیں

چاند کو ہاتھوں میں لایا بھی نہیں جا سکتا

پیار خوشبو ہے، چھپایا بھی نہیں جا سکتا


دور نظروں سے میری تُو کہاں ہوتا ہے

اپنے سائے سے بھی اب تیرا گماں ہوتا ہے

تیری راہوں میں صنم مر کے چلے جاتے ہیں

مجھ اب تم سے بچایا بھی نہیں جا سکتا


ان کے بن تو چین تو پایا بھی نہیں جا سکتا

پیار خوشبو ہے، چھپایا بھی نہیں جا سکتا


امرینہ قیصر

No comments:

Post a Comment