نہ سوئیں ہم نہ جاگیں ہم یہ دن کیسے گزرتے ہیں
یہ اشک آباد آنکھیں بھی جھپکتے ہیں تو ڈرتے ہیں
تمہارے بعد اس دل کو نہ بھائے پھر کوئی شاید
چلے جانا، ٹھہر جاؤ، ہم آنکھیں بند کرتے ہیں
نہ سُنتا ہے ہمارا غم،۔ نہ اپنا غم سُناتا ہے
نہ رونے دے نہ ہنسنے دے بھلا یوں زخم بھرتے ہیں
تم اپنے پاس ہی رکھو لرزتی عدل کی میزاں
نہ تم انصاف دیتے ہو، نہ ہم فریاد کرتے ہیں
وہی صبحیں، وہی شامیں، بدلتا کچھ نہیں منظر
جھڑے پتے خزاں کی رُت، نہ جیتے ہیں نہ مرتے ہیں
صدیق منظر
No comments:
Post a Comment