Sunday, 20 February 2022

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا

شجر سے مل کے جو رونے لگا تھا

پرندہ ڈار سے بچھڑا ہوا تھا

ٹھہرتا ہی نہ تھا دریا کہیں پر

مگر تصویر میں دیکھا گیا تھا

میں تشنہ لب اگرچہ لوٹ آیا

مگر دریا کو یہ مہنگا پڑا تھا

درونِ دل خلش ایسی کھلی تھی

کہ جس کا رنگ چہرے پر اڑا تھا

میں جب نکلا تمنا کے سفر پر

مِرے رستے میں اک صحرا پڑا تھا

یہ دنیا جس گھڑی گزری یہاں سے

میں تیرے خواب میں کھویا ہوا تھا

محبت آگ ہے ایسی کہ جلنا

دلوں کے بخت میں لکھا گیا تھا


عتیق احمد

No comments:

Post a Comment