Thursday, 17 March 2022

یہ عشق سمندر رنگوں کا میں لہروں لہروں ڈوب چلی

 یہ عشق سمندر رنگوں کا

میں لہروں لہروں ڈوب چلی

رنگوں نے بازی خوب چلی

اک لہر سمندر پار گئی

مجھے ہجر کی سلگن مار گئی

اب جل بھی آگ دکھائی دے

اس سلگن میں ہی جل جاؤں

کسی طرح رہائی دے

اک صبر کا ورطہ آن پڑا

جو توڑوں تو نقصان بڑا

یہ عشق سمندر کا محور

ہر لہر اسی سے پھوٹی ہے

ہر خواہش کا دھاگہ چھوٹا

تب حرص کی مالا ٹوٹی ہے

اب دنیا مجھ کو تھامے ہے

پر دنیا کی نہیں چاہ مجھے

اس عشق سمندر بہہ جاؤں

اب باقی ہے یہی راہ مجھے

اک رنگ ہے باقی شکر کا بس

وہ رنگ چڑھے میں پار لگوں

اس پار ملوں جب یار سے میں

تب قرب کا عالم کیا ہو گا

ایسے میں اگر موت آ جائے

تو موت کا عالم کیا ہو گا


ماوٰی سلطان

No comments:

Post a Comment