ہمارے زخم کے جیسے ہیں کام اِن کے بھی
ذرا بھی کم نہیں ہوتے ستارے گِن کے بھی
تمہیں خبر نہیں راتوں کو کون جاگا ہے
تمہارے خواب تو سچے ہوئے ہیں دن کے بھی
اسی لیے تو سہارا لیا نہ تنکوں کا
میں ڈوب جاؤں تو ڈوبیں گے ساتھ تنکے بھی
عجیب پیار سے بنٹتا رہا ہوں لوگوں میں
کبھی کبھار تو ٹکڑے ہوا ہوں چِھن کے بھی
تجھے یہ کل کہیں رستے میں چھوڑ جائیں گے
تُو آج شوق سے لیتا ہے نام جن کے بھی
خدا نے پھر مجھے بھیجا تو پھر سے مانگوں گا
تمہارے ساتھ کے لمحے تمہارے بِن کے بھی
گلاب دینے ہیں کتنے حساب رکھتا ہے
وہ بات تول کے کرتا ہے اور گِن کے بھی
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment