Tuesday, 16 August 2022

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں

 رس کی انوکھی لہریں


میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں 

مجھے دیکھتی جائیں یوں دیکھتی جائیں جیسے

کوئی پیڑ کی نرم ٹہنی کو دیکھے

لچکتی ہوئی نرم ٹہنی کو دیکھے

مگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح 

سچ کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا

ڈھیر بن کر پڑا ہو

میں یہ چاہتی ہوں کہ جھونکے ہوا کے 

لپٹتے چلے جائیں مجھ سے

مچلتے ہوئے چھیڑ کرتے ہوئے ہنستے ہنستے 

کوئی بات کہتے ہوئے لاج کے بوجھ سے 

رکتے رکتے سنبھلتے ہوئے

رس کی رنگین سرگوشیوں میں

میں یہ چاہتی ہوں کبھی چلتے چلتے 

کبھی دوڑتے دوڑتے بڑھتی جاؤں

ہوا جیسے ندی کی لہروں سے چھوتے ہوئے 

سرسراتے ہوئے بہتی جاتی ہے رکتی نہیں ہے

اگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں 

کہیں گیت گائے تو آواز کی گرم لہریں 

مِرے جسم سے آ کے ٹکرائیں 

اور لوٹ جائیں ٹھہرنے نہ پائیں

کبھی گرم کرنیں، کبھی نرم جھونکے

کبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیں

کبھی کچھ کبھی کچھ 

نئے سے نیا رنگ ابھرے

ابھرتے ہی تحلیل ہو جائے پھیلی فضا میں

کوئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں رکنے نہ پائے

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے

کھلا کھیت گندم کا پھیلا ہوا ہے

بہت دور آکاش کا شامیانہ انوکھی مسہری بنائے 

رسیلے اشاروں سے بہکا رہا ہے

تھپیڑوں سے پانی کی آواز 

پنچھی کے گیتوں میں گھل کر پھسلتے ہوئے 

اب نگاہوں سے اوجھل ہوئی جا رہی ہے

میں بیٹھی ہوئی ہوں

دوپٹا میرے سر سے ڈھلکا ہوا ہے

مجھے دھیان آتا نہیں ہے 

مِرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گا

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے

بس اب اور کوئی نئی چیز 

میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے


میرا جی

No comments:

Post a Comment