عارفانہ کلام نعتیہ کلام
زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
محمدﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سنو لوگو
یہ جس من میں سما جائے وہ من میلا نہیں ہوتا
نبیﷺ کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی ان کی
زباں میلی نہیں ہوتی،۔ سخن میلا نہیں ہوتا
میرے آقاؐ کی الفت تو بدن کو جگمگاتی ہے
کبھی اہل محمدﷺ کا بدن میلا نہیں ہوتا
گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرے
نبیﷺ کی نعت سن لیں تو چمن میلا نہیں ہوتا
جو نام مصطفٰیﷺ چومیں کبھی دکھتی نہیں آنکھیں
پہن لے پیار جو انﷺ کا بدن میلا نہیں ہوتا
میں نازاں تو نہیں فن پر مگر ناصر یہ دعویٰ ہے
ثنائے مصطفٰیﷺ کرنے سے فن میلا نہیں ہوتا
ناصر چشتی
No comments:
Post a Comment