Saturday, 1 October 2022

تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے

  تِری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتے 

جو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتے 

وہ آئیں گے کبھی کوٹھے پہ امتحاں کر لو 

فلک سے بھاگے تو شمس و قمر نہیں جاتے 

مسیح و بُو علی سِینا کی کیا ہوئی تشخیص 

کسی علاج سے داغِ جگر نہیں جاتے

 گلے لگاتے ہیں ان کو بہانے رخصت کے 

چلے شراب کہ اب ہم سفر نہیں جاتے 

وہ کون صبح نہیں کرتے شام کا وعدہ 

وہ شام کون سی ہے جو مُکر نہیں جاتے

پڑھایا طوطے کو اک عمر، بے وفا نکلا

ازل کے بگڑے کسی سے سُدھر نہیں جاتے

یہ آگے آگے کنول لے کے چل رہے ہو کیوں

وہ منزلوں میں قمر کے اگر نہیں جاتے 

تمہاری چشموں نے خط پر مگر نہ ڈالی آنکھ

غزال کس لیے ریحاں کو چر نہیں جاتے 

فلک سے پوچھیے دریا کا شور کچھ بھی ہے 

جو نکلے دل سے یہ نالہ کدھر نہیں جاتے

کچھ آب برق روش تار پر نہیں جاتے

لڑا کے آنکھ تم آنکھوں سے ہو گئے پنہاں 

پر آنکھ سے مِری مثلِ نظر نہیں جاتے 

مکان اور تو لائق نظر نہیں آتا 

غریب خانہ تو ہے کیوں اتر نہیں جاتے 

خیال سبزۂ خط بھی ہو اے جنابِ خضرؑ

پیۓ ہیں آبِ بقاء، آپ مر نہیں جاتے

دھڑی جماؤ، مَلو مہندی، زُلف سلجھاؤ

غضب کا ناز ہے تم کیوں سنور نہیں جاتے

تمہاری چوٹی کی ناگن سے کھیلتے ہیں مدام 

کسی بلا سے یہ عشّاق ڈر نہیں جاتے 

خفا نسیم سے کتنے ہیں وہ الٰہی خیر 

ہوا بھی کھانے کو شام و سحر نہیں جاتے 


نسیم میسوری

No comments:

Post a Comment