Wednesday, 2 November 2022

مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب

 مر مٹے جب سے ہم اس دشمن دیں پر صاحب

پاؤں ٹکتے ہی نہیں اپنے زمیں پر صاحب

خوش گمانی کا یہ عالم ہے کہ ہر بات کے بیچ

ہاں کا دھوکہ ہو ہمیں اس کی نہیں پر صاحب

تخت یاروں کو ہے غم شاہ کی معزولی کا

اور فدا بھی ہیں نئے تخت نشیں پر صاحب

ہم تو اک سانولی صورت ہے جسے چاہتے ہیں

آپ مر جائیں کسی ماہ جبیں پر صاحب

حسن رنگوں کے تصادم سے جلا پاتا ہے

جیسے اک خال کسی روئے حسیں پر صاحب

ہم وہ مجروح زیارت کہ سر محفل بھی

آنکھ رکھتے ہیں اسی پردہ نشیں پر صاحب


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment