Sunday, 6 November 2022

مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

 مجھ کو کیا فائدہ گر کوئی رہا میرے بعد

ساری مخلوق بلا سے ہو فنا میرے بعد

مر چکا میں تو نہیں اس سے مجھے کچھ حاصل

برسے گر پانی کی جا آبِ بقا میرے بعد

چاہنے والوں کا کرتا ہے زمانہ ماتم

ماتمی رنگ میں ہے زلفِ رسا میرے بعد

روئیں گے مجھ کو مِرے دوست سب آٹھ آٹھ آنسو

برسے گی قبر پہ گھنگھور گھٹا میرے بعد

یوں ہی کھلتی رہیں گی صحن چمن میں کلیاں

یوں ہی چلتی رہے گی بادِ صبا میرے بعد

جان دینے کو نہ ان پر کوئی تیار ہوا

گویا جاں باز زمانہ میں نہ تھا میرے بعد

ہاتھ سے ان کے ٹپکتے نہیں مے کے قطرے

اشک خوں روتا ہے یہ رنگِ حنا میرے بعد

حشر تک کوئی نہ روکے گا ستم گاروں کو

جو خدا پہلے تھا وہ ہی ہے خدا میرے بعد

جیتے جی دیتے تھے جو گالیاں مجھ کو پرویں

مغفرت کے لیے کرتے ہیں دعا میرے بعد


پروین ام مشتاق

No comments:

Post a Comment