Sunday, 14 May 2023

دعاؤں کا اپنی اثر دیکھنا ہے

 دعاؤں کا اپنی اثر دیکھنا ہے

جفاؤں کا تیری ثمر دیکھنا ہے

ستم کی تیرے انتہا دیکھنی ہے

وفاؤں کا اپنی صبر دیکھنا ہے

تُو نے کئے تھے ہم سے جو وعدے

وعدوں کا تیرے حشر دیکھنا ہے

تیری وفا پر، تیرے ستم پر

طبیعت کا اپنی صبر دیکھنا ہے

تُو مجھ سے کہے نہ کہے میرے ہمدم

چوکھٹ پہ تیری بھی مر دیکھنا ہے

جگر ہو یہ چھلنی یا دل پر زخم ہوں

تیری انتہا کا جبر دیکھنا ہے

کی جو دعا تھی اس نے تمہاری

ثاقب نے اس کا اثر دیکھنا ہے


حسین ثاقب

No comments:

Post a Comment