Sunday, 14 May 2023

کیسے بھولوں یہ میرے بس میں نہیں

 کیسے بھولوں یہ میرے بس میں نہیں

مجھ سے ناطے وہ تیرے بس میں نہیں

ایک میلہ ہے گہما گہمی کا

یہ غموں کے اندھیرے بس میں نہیں

نہ دِیا، نہ چراغ ہے کوئی

میرے گھر کے اندھیرے بس میں نہیں

سُوکھی ٹہنی پہ سُوکھے پتوں کے

عارضی ہیں بسیرے بس میں نہیں

کیسے گزرے گی زندگی ساری

ڈستی شامیں، سویرے بس میں نہیں

بارشوں کا بھی بوجھ تھا ان پر

اشک اتنے گھنیرے بس میں نہیں

میں اکیلا ہوں ساری دنیا میں

رشتے ناطے یہ میرے بس میں نہیں

شہر ڈُوبے ہیں بستیاں ڈُوبیں

کیا کریں یہ وڈیرے بس میں نہیں

میرے بس میں تو کچھ نہیں بزمی

راتیں بے بس سویرے بس میں نہیں


شبیر بزمی

No comments:

Post a Comment