Monday, 3 July 2023

جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں

حسرت آتی ہے یہ پہنچا میں رہا جاتا ہوں

دو قدم بھی نہیں چلنے کی ہے مجھ میں طاقت

شوق کھینچے لیے جاتا ہے، میں کیا جاتا ہوں

قافلے والے چلے جاتے ہیں آگے آگے

مدد اے شوق! کہ پیچھے میں رہا جاتا ہوں

کاروانِ رہِ یثرب میں ہوں آوازِ درا

سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا جاتا ہوں

اس لیے کہ نہ ملے روکنے والوں کو پتہ

محو کرتا ہوا نقشِ کفِ پا جاتا ہوں

فیضِ مولا سے ابھی صبر کی طاقت ہے امیر

جو کڑی سامنے آتی ہے اُٹھا جاتا ہوں


امیر مینائی

No comments:

Post a Comment