Friday, 10 October 2025

عمر بھر میں یہی کمایا ہے

عمر بھر میں یہی کمایا ہے

دل ہی مٹی ہے دل ہی مایا ہے

کھول بیٹھے ہیں خواب آنکھوں میں

اب نہ وہ دھوپ ہے نہ سایا ہے

کیا بُرا ہے جو تیری چھاؤں سے

ہم نے اپنا شجر بنایا ہے

ایک آسان زندگی کا ہنر

اِک مشقت کے بعد آیا ہے

ایک دل سے لیے ہیں سارے کام

اِک دِیا عمر بھر جلایا ہے

میرے ٹوٹے ہوئے پروں کے لیے

اب وہ سات آسمان لایا ہے


اکبر معصوم

No comments:

Post a Comment