عمر بھر میں یہی کمایا ہے
دل ہی مٹی ہے دل ہی مایا ہے
کھول بیٹھے ہیں خواب آنکھوں میں
اب نہ وہ دھوپ ہے نہ سایا ہے
کیا بُرا ہے جو تیری چھاؤں سے
ہم نے اپنا شجر بنایا ہے
ایک آسان زندگی کا ہنر
اِک مشقت کے بعد آیا ہے
ایک دل سے لیے ہیں سارے کام
اِک دِیا عمر بھر جلایا ہے
میرے ٹوٹے ہوئے پروں کے لیے
اب وہ سات آسمان لایا ہے
اکبر معصوم
No comments:
Post a Comment