Saturday, 8 November 2025

حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے

 حقیقت کو عجب انداز سے جھٹلایا جاتا ہے

زمانے کو خدا کے نام پر بہکایا جاتا ہے

تعلق رہنما کا مفلس و نادار سے کیسا

انہیں ووٹوں کی خاطر وقت پر پھسلایا جاتا ہے

کہیں میری شرافت کو نہ کمزوری سمجھ بیٹھے

کبھی دشمن کو بھی اس واسطے دھمکایا جاتا ہے

اگرچہ ہر نئے دن کا نیا انداز ہے لیکن

کبھی افسانۂ پارینہ بھی دہرایا جاتا ہے

اگر جذبات زخمی ہوں تو ہو گا فکر بھی زخمی

یہی تاریخ کے اوراق میں بھی پایا جاتا ہے

یہ رتبہ ہر کسی کو کوئے جاناں میں نہیں ملتا

کوئی منصور ہو تو دار پر لٹکایا جاتا ہے


اوم پرکاش لاغر

No comments:

Post a Comment