Friday, 2 January 2026

یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے

 یہ زندگی کا ہے اک سانحہ کہیں کس سے

ہمارے بیچ میں ہے فاصلہ کہیں کس سے

تمام رات تو الجھ سوار تھی مجھ پر

تبھی میں دیر سے شاید اٹھا کہیں کس سے

ہمارے پاس میں دولت کی ہے کمی شاید

ہر ایک شخص ہے ہم سے جدا کہیں کس سے

 یہ شاعری ہے میاں تم سے یہ نہیں ہو گا

کسی عزیز نے مجھ سے کہا کہیں کس سے

مجھے یقین ہے وہ ساتھ چھوڑ دے گا کاش

وہ پھر سے توڑے گا یہ دل مِرا کہیں کس سے


کاشف کاش قنوجی

No comments:

Post a Comment