Monday, 1 June 2026

خود ہی مسمار کر رہا ہوں میں

 آخری وار کر رہا ہوں میں

اپنا انکار کر رہا ہوں میں

آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر

روح کو تار کر رہا ہوں میں

اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں

کتنا ایثار کر رہا ہوں میں

ہے محبت بھی کار فن کہ جسے

دل سے ہر بار کر رہا ہوں میں

کس مہارت سے اس ڈرامے میں

اپنا کردار کر رہا ہوں میں

تیر کھانے سے اس کے اس فن میں

اس کو فنکار کر رہا ہوں میں

کچھ تو بیمار ہے وہ پہلے سے

اور بیمار کر رہا ہوں میں

دوست احباب کیوں خجل ہیں آج

ذکر اغیار کر رہا ہوں میں

میں اگر جا چکا تو پھر کس سے

اب بھی تکرار کر رہا ہوں میں

اپنی ناکامی کی دعا کر کے

مرضی یاد کر رہا ہوں میں

خود ہی تعمیر کر کے بت اپنا

خود ہی مسمار کر رہا ہوں میں

اک نہ اک شے ہر عمر میں اب بھی

بے سروکار کر رہا ہوں میں

کوئی تو مجھ سے ہار کر جیتے

سب سے ہی ہار کر رہا ہوں میں

جانے کس عہد کے لیے راشد

اس کو تیار کر رہا ہوں میں


راشد اطہر

No comments:

Post a Comment