Tuesday, 2 June 2026

حاکم کے یہ اطوار نرالے نہ رہیں گے

 حاکم کے یہ اطوار نرالے نہ رہیں گے

جب ظرف و انا بیچنے والے نہ رہیں گے

راہوں کے اندھیرے تو مِٹائے گئے لیکن

کیا عِلم تھا ذہنوں میں اُجالے نہ رہیں گے

تم نے جو بچھائے ہیں بہت راہ میں کانٹے

اچھا ہے مِرے پاؤں میں چھالے نہ رہیں گے

جو ہم کو چبانے پہ تُلے ہیں وہ سمجھ لیں

ہم ان کے لیے نرم نوالے نہ رہیں گے

کیا لغزشِ پا کی ہمیں فکر آپ کے ہوتے

کیا آپ ہمیں اتنا سنبھالے نہ رہیں گے

ہاں یہ رسن و دار کی منزل تو ہے لیکن

یاں اپنی زبانوں پہ تو تالے نہ رہیں گے

حق گو تو ہیں مانا کہ ستم دیدہ بہت ہیں

اور یہ بھی اگر چند جیالے نہ رہیں گے


غلام حسین راز بالاپوری

No comments:

Post a Comment