Wednesday, 8 July 2026

لفظوں کہ وسیلے سے بیاں ہونے سے پہلے

 لفظوں کہ وسِیلے سے بیاں ہونے سے پہلے

آسان تھا یہ کام گِراں ہونے سے پہلے

تخلیق نے چھینا ہے مِرا حُسن بھی مجھ سے

اک راز تھا میں میرے عیاں ہونے سے پہلے

کس طرح کی بینائی تھی ان آنکھوں میں جانے

کچھ بھی نہ دِکھا جن کو دُھواں ہونے سے پہلے

سوچا تو بہت پر کوئی معنی نہیں نکلے

کیا میری نہیں تھی مِری ہاں ہونے سے پہلے

یہ عشق تو اب آ کے مِری جان ہوا ہے

ناسُور جگر تھا رگِ جاں ہونے سے پہلے

ہم جیسے نمازی تمہیں ڈھونڈے نہ ملیں گے

پڑھتے ہوں نمازیں جو اذاں ہونے سے پہلے

💢ہیں سارے فسادات زبانوں کا نتیجہ💢

خاموش تھا انسان زباں ہونے سے پہلے

میں سوچتا رہتا ہوں بہ ہر حال کہ کیا تھا

آنکھوں میں تِری میرا جہاں ہونے سے پہلے


امان عباس

No comments:

Post a Comment