اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے
زمانے دیکھ لڑائی کا وقت بھی نہیں ہے
تمہارے شہر نے پاگل بنا لیا لیکن
کسی کو راہنمائی کا وقت بھی نہیں ہے
مِرے خدا کوئی مجھ سے بِچھڑ رہا ہے اور
تُو جانتا ہے جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے
مگر تمہاری طرف دیکھتے مسلسل ہیں
ہمارے دل کی بھُلائی کا وقت بھی نہیں ہے
کسی نے ٹھیک سے اپنا کہا نہیں ہے مجھے
کسی کے پاس جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے
یہ فیصلہ مِرے غم نے غلط کیا شاید
رِہا کیا ہے، رِہائی کا وقت بھی نہیں ہے
بس ایک رات بِچھڑنے کا دُکھ کریں گے ہم
پھر اس کے بعد دُہائی کا وقت بھی نہیں ہے
ثواب ہم نظر انداز کر گئے عادس
بُرا بنے ہیں بُرائی کا وقت بھی نہیں ہے
امجد شبیر عادس
No comments:
Post a Comment