Wednesday, 8 July 2026

اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے

 اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے

زمانے دیکھ لڑائی کا وقت بھی نہیں ہے

تمہارے شہر نے پاگل بنا لیا لیکن

کسی کو راہنمائی کا وقت بھی نہیں ہے

مِرے خدا کوئی مجھ سے بِچھڑ رہا ہے اور   

تُو جانتا ہے جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے

مگر تمہاری طرف دیکھتے مسلسل ہیں   

ہمارے دل کی بھُلائی کا وقت بھی نہیں ہے

کسی نے ٹھیک سے اپنا کہا نہیں ہے مجھے

کسی کے پاس جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے

یہ فیصلہ مِرے غم نے غلط کیا شاید

رِہا کیا ہے، رِہائی کا وقت بھی نہیں ہے

بس ایک رات بِچھڑنے کا دُکھ کریں گے ہم 

پھر اس کے بعد دُہائی کا وقت بھی نہیں ہے

ثواب ہم نظر انداز کر گئے عادس    

بُرا بنے ہیں بُرائی کا وقت بھی نہیں ہے


امجد شبیر عادس

No comments:

Post a Comment