Friday, 4 August 2023

کبھی دل یاد کرتا ہے کبھی مجھ سے جھگڑتا ہے

کبھی دل یاد کرتا ہے کبھی مجھ سے جھگڑتا ہے

جو باہر دسترس سے ہوں انہی باتوں پہ اڑتا ہے

کسی کھنڈر پرانے میں بدلتا جا رہا ہوں میں

کہ روزانہ ہی اندر سے مِرا یہ جسم جھڑتا ہے

کسی بھی اور سے آؤ مِرے ہی پاس آؤ گے

نشاں تیرے بھی رستے کا مرے رستے میں پڑتا ہے

اسے وحشت سے جانے کیوں محبت ہو رہی ہے اب

کسی زنجیر کو خود ہی مِرا پاؤں پکڑتا ہے

مجھے ہی مار ڈالیں گے جو میرے یار بنتے ہیں

سمندر راستے میں ہے قدم آگے کو بڑھتا ہے

یہ حسرت دیدِ صحرا کی کرے مجبور ہجرت پر

بھلا کب اتنی آسانی سے رنگِ عشق چڑھتا ہے

چلو اپنی اناؤں کو کریں سجدہ خوشی سے ہم

مگر خوابوں کا ناصر جی نگر سارا اُجڑتا ہے


ناصر معروف

No comments:

Post a Comment