تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے
تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے
جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے
کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے
تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت
یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے
کوئی مستِ چشم ساقی کوئی ہے شہیدِ غمزہ
ہر بادہ کش کی حالت یہاں ایک سی نہیں ہے
رہے عمر بھر بھٹکتے وہ نہ ظلمتوں سے نکلے
تیرے آفتابِ رخ کی جہاں روشنی نہیں ہے
ہے شراب عشق ساقی غمِ دو جہاں کا درماں
اے علیم اس سے بہتر کوئی میکشی نہیں ہے
علیم اللہ صفی چشتی نظامی
No comments:
Post a Comment