اک اضطرابِ شوق کا حالت ہے آج کل
گویا سکون ہی بڑی آفت ہے آج کل
آلامِ دو جہاں سے قرابت ہے آج کل
سب آپ کا کرم ہے عنایت ہے آج کل
اب صبح کیا بتاؤں شبِ غم کا ماجرا
جب تم کو بھُول جانے کی عادت ہے آج کل
سر پائے یار پر رکھے سوتے ہیں بے خبر
آلامِ دو جہاں سے فراغت ہے آج کل
اب تک نصیر آتی ہے پہلو سے بوئے دوست
ہر ایک سانس عین عبادت ہے آج کل
نصیر نیازی
No comments:
Post a Comment