عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ آقاﷺ پہ جو رہنے کی اجازت مل جائے
مجھ گہنگار کو بخشش کی بشارت مل جائے
بن ہی جائے گا مِرا کام سرِ روزِ جزا
کوئی دن اور ندامت کی جو مہلت مل جائے
کچھ نہیں چاہیے تجھ سے مجھے اے عمرِ رواں
نعت کہنے کی کوئی روز سہولت مل جائے
نعت گوئی کا سلیقہ مجھے آئے اے کاش
درِ حسّان پہ دربانی کی خدمت مل جائے
ختم ہو کاش! کبھی دربدری میری بھی
مستقل مجھ کو مدینے میں سکونت مل جائے
نعت کہتے ہوئے ٹپکے کوئی آنسو میرا
یوں مجھے تاج شفاعت کی ضمانت مل جائے
تاج الدین تاج
No comments:
Post a Comment