کیا مجھ بے نوا کے پاس
ایک دلِ درد مند لایا ہوں
خُمِ طیبہ سے جو بچ رہی تھی
شیشۂ دل میں بند لایا ہوں
ہمرہانِ رمیدہ خُو کے لیے
آنسوؤں کی کمند لایا ہوں
ربِ اعلیٰ کے پُوجنے والو
مژدۂ سربلند لایا ہوں
تیرے احساں کے شکریے کے لیے
دلِ احسان مند لایا ہوں
نواب بہادر یار جنگ
اصل نام؛ محمد بہادر خان
تخلص؛ خلق
کلام کے مطلع میں خطابت کی غلطی لگتی ہے، دو عدد آن لائن کتب میں ایسا ہی لکھا نظر آیا ہے لیکن پھر بھی مجھے اس میں کچھ درست نہیں لگتا ہے، کوئی اہلِ علم دوست اس کی تصحیح کر دے تو بہتر ہو گا۔
No comments:
Post a Comment