Friday, 24 April 2026

مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو

 جو آ رہی ہے بدن سے کمال کی خوشبو

مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو

اسی کے دم سے معطر ہے کاروان حیات

ہے میرے گھر میں جو اہل و عیال کی خوشبو

زباں پہ ہیں وہی کلمہ وہی ہے سوز مگر

کہاں سے لاؤں اذان بلال کی خوشبو

نہ آیا دل میں کسی اور کا خیال کبھی

بسی ہے جب سے تمہارے خیال کی خوشبو

تو اپنے فضل و کرم سے قبول کر یا رب 

حبیبہ لائی ہے دست سوال کی خوشبو


حبیبہ اکرام


No comments:

Post a Comment