امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے
آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے
صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب
پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے
زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی
موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے
کیسی یہ مِٹ چلی ہیں لہو کی شہادتیں
کیسے یہ دست و بازوئے قاتل بدل گئے
یہ دل لڑا ہے کتنے محاذوں پہ ایک ساتھ
ہر معرکے میں مدِ مقابل بدل گئے
احمد عظیم صدیقی
No comments:
Post a Comment