آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے
مِرے ہر زخم کے ٹیسوں میں کمی ہوتی ہے
آپ کہتے تھے میں آسودہ ہوں اپنے گھر میں
پھر یہ کیوں آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے
اب مِرے ہجر کو اوقات کے خانے میں نہ رکھ
ایک لمحہ بھی یہاں ایک صدی ہوتی ہے
کسی ٹھوکر سے اتر جائے نہ روغن اس کا
مِرے کمرے میں جو تصویر پڑی ہوتی ہے
اس طرح تجھ کو زمانے سے چھپائے رکھا
جیسے خواہش کوئی سینے میں دبی ہوتی ہے
نظر آتا ہی نہیں نورِ مجسم ہم کو
اس کے دروازے پہ چلمن سی گری ہوتی ہے
اس طرح راہ میں ملتا ہے وہ رک کر ہم کو
جس طرح ریل سٹیشن پہ کھڑی ہوتی ہے
رشید سندیلوی
No comments:
Post a Comment