Saturday, 17 October 2026

خود کو کبھی جو خود سے ملانا پڑا ہمیں

 خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں

چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں

تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے

خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں

مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا

ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں

اس دشتِ کائنات میں جینے کے واسطے

سوزِ غمِ حیات بھُلانا پڑا ہمیں

بن جائے پھر نہ ایک تماشہ یہ سوچ کر

دُنیا سے اپنا درد چھُپانا پڑا ہمیں

کچھ تیرگی پسند کل آئے تھے اس لیے

بستی کا ہر چراغ بُجھانا پڑا ہمیں

سُورج کا ظُلم اور بڑھے گا یہ جب سُنا

آنگن میں ایک پیڑ لگانا پڑا ہمیں

ایسا بھی وقت عالمِ غُربت میں آ گیا

بچوں کو بھُوکے پیٹ سُلانا پڑا ہمیں

رہبر! ہمارے واسطے منزل نہیں چلی

منزل کی سمت چل کے خود آنا پڑا ہمیں


معید رہبر لکھنوی

No comments:

Post a Comment