صفحات

▼

Saturday, 17 October 2026

ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

 ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس

پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس

برفزاروں میں نہ جل اب کے برس

التجا کرتا ہے دل اب کے برس

تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت

دیکھ لے اور کے بل اب کے برس

ارباب کرم سے بدلا ہے دستور غم ایام کہاں

 اربابِ کرم سے بدلا ہے دستورِ غمِ ایّام کہاں

اس دور جہانِ ہستی میں انسان کو ہے آرام کہاں

دُنیا ہے جفاؤں کی شیدا، دُنیا کو وفا سے کام کہاں

اے حُسنِ وفا کے دِیوانے! لیتا ہے وفا کا نام کہاں

رہبر نظر آتے ہیں رہزن تاریک دل اور ماتھے پہ شکن

پُوچھو نہ حقیقت کچھ اپنی غُربت میں ہوئی ہے شام کہاں

جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں

 جل کر ان آنکھوں میں آنسو جب کاجل بن جاتے ہیں 

دل سے اٹھ کر ریگ بگولے دل بادل بن جاتے ہیں 

کوئی سچی بات زباں پر جب بھی کبھی آ جاتی ہے 

وہ صحرا ہو یا گُلشن ہو سب مقتل بن جاتے ہیں 

جب بھی ذہن میں جاگ اُٹھتی ہے ان ہونٹوں کی شیرینی 

کیسے کیسے تلخ مسائل جان غزل بن جاتے ہیں 

Friday, 16 October 2026

زمیں پہ کیسا ہے قحط الرجال اف اللہ

 زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ

وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ

ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ

مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ

رلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

 کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا

رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا

یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے

مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا

لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے

گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا

دل نثار مصطفیٰ جاں پائمال مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ

یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ

دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو

میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ

سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا

نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ

شکوے کی چبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

 شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے

یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے

خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا

پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے

لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے

اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے

نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیں

 نہ ذِکرِ آشنا نے قصۂ بے گانہ رکھتے ہیں

حدیثِ یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں

چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں

برنگِ طوقِ قمری ہم خطِ پیمانہ رکھتے ہیں

نہ اُلجھو اس قدر بے وجہ سُلجھانے میں زُلفوں کے

دلِ صد چاک تو ہم بھی برنگِ شانہ رکھتے ہیں

غیر بھی بے دم ہیں نالوں سے بت بے پیر بھی

 غیر بھی بیدم ہیں نالوں سے بُتِ بے پِیر بھی

اک ہوائی تِیر ہے یہ آہِ بے تاثیر بھی

کوئی شے خالی نہیں نیرنگِ حُسنِ یار سے

گُل میں رنگ و بُو تو مہر و مہ میں ہے تنویر بھی

کہتے ہیں رکھتے نہیں کیوں مُوئے مِژگاں کا خیال

کیا تمہارے دل میں رہ سکتا نہیں اک تِیر بھی

Thursday, 15 October 2026

عصمت کے بازار کو چھو کے آتا ہوں

 عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں

ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں

کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے

میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں

پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں

دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں

یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

 یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

ہمیں تو رات ہی مِلتی ہے روشنی میں کہیں

فقیر چہرے جو بِکتے ہیں شہر والوں میں

کسی کو خواب نہ مِلتے ہیں زندگی میں کہیں

چراغ بام کے بُجھتے ہیں زخم کھا کھا کر

یہ رات بولتی ہے درد خامشی میں کہیں

ان کی چمک سے چمکا چہرہ اصول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا

آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا

حسن صدائے سرور تیری تلاش میں

حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا

جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے

سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا

ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

 ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

ایک سُورج ہے پسِ پشت پرایا اپنا

غمکدۂ اشکِ مُسلسل سے نہال شب ہے

زخم تازہ کو درِ یار بنایا اپنا

چاند سے پار کوئی رات بسیرا ڈالے

ہم سے پُوچھے ہے کوئی خُون بہایا اپنا

پروردگار تیرے سہاروں کو کیا ہوا

 گُم ہے فضا چمن کی نظاروں کو کیا ہُوا

گُل ہیں اُداس اُداس بہاروں کو کیا ہوا

کیوں ان کی روشنی ہے شب غم سے دُور دُور

اے آسمان! تیرے ستاروں کو کیا ہوا

دیکھے تو کوئی ان کا تغافل کہ بعدِ مرگ

وہ پُوچھتے ہیں درد کے ماروں کو کیا ہوا

Wednesday, 14 October 2026

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے

 جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب مِلے

حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے

ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی

اس آرزو میں پُکارا تھا کچھ جواب ملے

ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی

رُخِ چمن پہ نشاناتِ انقلاب ملے

دنیادار کے در پر خدا سوالی ہے

 سِتمگری کی نئی اک طرح نکالی ہے

یہ آسمان پہ کس نے زمیں اُچھالی ہے

ہمارا اُن سے کوئی ربط تھا، نہ ہے کوئی

بنانے والوں نے تو بات ہی بنا لی ہے

وہ مہرباں ہوئے ہم پر تو باور آیا یہ

کہ جس کا نام قیامت ہے آنے والی ہے

تماشائی تماشا دیکھتا ہے

 یہ کپڑا تو بہت مہنگا پڑا ہے

بدن عریاں رہے تو کیا بُرا ہے

نمُو جیسے ہوئی ویسا نہیں ہے

بدلتے پیڑ کو بدلا گیا ہے

میں گِریہ کاٹ کر بویا گیا ہوں

سمندر میرے اندر یوں اُگا ہے

آج قسمت آزمائی ہو گئی

 آج قسمت آزمائی ہو گئی

کُوئے جاناں میں رسائی ہو گئی

وہ نہ مِلتے تو نہ تھا کوئی گِلہ

غم یہ ہے مِل کر جُدائی ہو گئی

آشنائی سے ہے جو ناآشنا

اس سے اپنی آشنائی ہو گئی

مرا دل کتنا سادہ ہے

 تِری باتوں میں آتا ہے مِرا دل کتنا سادہ ہے

غموں میں مسکراتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

جفا کاروں کی دنیا میں وفا کی آس ہے اس کو

عجب سپنے سجاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

اسے کچھ بھی نہیں دکھتا سوائے تیرے دنیا میں

تمہی پر جاں لٹاتا ہے مرا دل کتنا سادہ ہے

گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

 ستم ظریف


گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

ہزاروں رفتگاں

جن کے نشانِ پا

کہیں مدغم، کہیں واضح

بلا مقصد پڑے ہیں

پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے

کیوں بلندی پا کے ہستی میں اتر جاتا ہوں میں

 کیوں بلندی پا کے ہستی میں اتر جاتا ہوں میں

کس لیے احساس کی حد سے گزر جاتا ہوں میں

ڈوب جائے گی تو اپنے آنسوئوں میں سوچ لے

چھوڑ کے اے زندگی تجھ کو اگر جاتا ہوں میں

زخم بے انداز ہیں پھر بھی ٹھہرِ شہرِ طلب

آنے والی کل کی خاطر پھر سنور جاتا ہوں میں

Tuesday, 13 October 2026

شب فراق مری جان اک عذاب میں ہے

 شبِ فراق مِری جان اک عذاب میں ہے

تڑپ رہا ہے جگر دل بھی اضطراب میں ہے

ہزاروں طالبِ دیدار ٹُوٹے پڑتے ہیں

اگرچہ جلوۂ جاناں ابھی نقاب میں ہے

نگاہ مِلتے ہیں مستانہ کر دیا ساقی

بتائے کوئی یہ مستی کہاں شراب میں ہے

ظلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

 ظُلمت کو پردھان بنا کر دیکھ لیا

سُورج کو بے جان بنا کر دیکھ لیا

اب جو لنکا ہار گئے تو رونا کیا

بھیدی کو دربان بنا کر دیکھ لیا

خیر دُعائیں لب پر ہی دم توڑ گئیں

جذبوں کو بھگوان بنا کر دیکھ لیا

کب یہ مانگا تخت شاہی دے کوئی پوشاک دے

 کب یہ مانگا تختِ شاہی دے، کوئی پوشاک دے

خاکساروں کو تُو بس اپنی گلی کی خاک دے

ہم زمیں زادے ہیں آخر، ہم کو یہ معلوم ہے

یُوں نہ دھوکا تُو ہمیں اے گردشِ افلاک دے

جو خُوشی پتھر کرے دل کو تو بہتر ہے یہی

اے خُدا! تُو اُس کے بدلے دیدۂ غمناک دے

تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

 تمہارے غم کو غم جاں بنا لیا میں نے

کہ جنگلوں کو گلوں سے سجا دیا میں نے

نہ جانے کتنی امیدیں لہو لہو کر کے

دل تباہ کو جینا سکھا دیا میں نے

سبب ہو کچھ بھی انہیں روٹھنے کی عادت ہے

یہ سوچنا ہی غلط ہے کہ کیا کیا میں نے

بلائے جاں سہی پر زندگی اتنی بھیانک بھی نہیں

 یُوں بھی ہوتا ہے


یُوں بھی ہوتا ہے کہ اکثر

زندگانی کے اُفق پر

بدلیاں غم کی یکایک

یُوں اُمڈ آتی ہیں جیسے

زندگی کی آخری یہ شام ہو

چھُوٹنے لگتی ہیں نبضیں

یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے

 یہاں درخت تھے سایہ تھا کچھ دنوں پہلے 

عجیب خواب سا دیکھا تھا کچھ دنوں پہلے 

یہ کیا ہوا کہ اب اپنا بھی اعتبار نہیں 

ہمیں تو سب کا بھروسا تھا کچھ دنوں پہلے 

ہمارے خون رگ جاں کی لالہ کاری سے 

جو آج باغ ہے صحرا تھا کچھ دنوں پہلے 

مشہور نہ تھا تو بھی مرے نام سے پہلے

 آرام جو کرتے نہیں آرام سے پہلے

منزل پہ پہنچتے ہیں وہی شام سے پہلے

یہ ایک حقیقت ہے کہانی نہیں اے دوست

مشہور نہ تھا تُو بھی مِرے نام سے پہلے

دنیا جسے کہتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا

یہ کیا تھی تِرے جلوہ گہِ عام سے پہلے

Monday, 12 October 2026

کوئی خیال نہ آیا ترے خیال کے بعد

 سبک ہوں اپنی نگاہوں میں عرض حال کے بعد

کہ آبرو نہیں رہتی کبھی سوال کے بعد

نہ پوچھو دل کو ہوئی ہیں اذیتیں کیا کیا

کبھی سوال سے پہلے کبھی سوال کے بعد

ضمیر کی وہ مسلسل ملامتیں توبہ

ملا ہے دل کو سکوں اشک انفعال کے بعد

آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں

 آ اے دل خطائیں بخشوانے چلتے ہیں

آج روٹھے ہوئے یار کو منانے چلتے ہیں

ہو سکتا ہے فراموش کر دے وہ بے پرواہ

اسے وعدۂ فردا یاد دلانے چلتے ہیں

ایمان پختہ ہو یا خستہ، سزا ملے یا جزا

دہلیزِ یار پہ جبیں جھکانے چلتے ہیں

سایہ بھی اب ہے ہم سے جدا دیکھتے چلیں

 کُچھ دکھائے ہم کو خُدا دیکھتے چلیں

کیوں لوگ ہیں خُدا سے خفا دیکھتے چلیں

ٹکرا کے جس سے لوٹ گئی ہر صدا وہ در

خُوشبو کی دستکوں سے کُھلا دیکھتے چلیں

دُنیا ہمارے ساتھ تھی دورِ بہار میں

سایہ بھی اب ہے ہم سے جُدا دیکھتے چلیں

نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا

 نہ تھا فضاؤں کا قیدی نہ وہ مکان میں تھا

پرندہ فکر کا اک خاص ہی اُڑان میں تھا

تمام شہر کے ہاتھوں میں تھے دھنش لیکن

جو ایک تیر تھا وہ میری ہی کمان میں تھا

جسے پڑوسی کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا

ہمارے پُرکھوں کا ورثہ اسی زبان میں تھا

رخ سے پردا جو اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

 رُخ سے پردا جو اُٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

تُو نے ہنگامہ مچا رکھا ہے توبہ توبہ

ایک تو آنکھیں تِری یار ہیں خنجر جیسی

اس پہ کاجل بھی لگا رکھا ہے توبہ توبہ

شیخ جی! آپ کو آخر یہ ہوا کیا ہے کہو

جام ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے توبہ توبہ

ساقیا یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

 ساقیا! یہ درد گہرا ہے کوئی امداد کر

ورنہ مجھ کو تیشہ دے کر تُو یہیں فرہاد کر

برگزیدہ ایک بسمل کی ہزاروں منزلیں

رقص کرتی ہیں کسی کے جملۂ ناشاد پر

قیس کو خانہ بدوش اور میر کو وحشت زدہ

اور مجھ کو عاشقوں کے درمیاں ایجاد کر

Sunday, 11 October 2026

واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

 واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

بے چین ہیں جو صدمۂ درد جگر سے آپ

یہ بھی خبر ہے دل پہ گزرتی ہے میرے کیا

جا تو رہے ہیں پھیرے ہوئے منہ ادھر سے آپ

آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے

واقف نہیں ہیں کیا مِری شام و سحر سے آپ

ڈھلتی شام طویل مسافت

 ڈھلتی شام

طویل مُسافت

وحشت زدہ ناگ

تاک میں بیٹھے گِدھ

اور وہ اجنبی مُسافر

شاید کہ آیا تھا

کوئی بتلائے حال ساقی کا

 کوئی بتلائے حال ساقی کا

آ رہا ہے خیال ساقی کا

کوئی ثانی نہیں مِلا اب تک

یار اس بے مثال ساقی کا

ہائے کیا خُوب تھا وہ منظر بھی

میرے ہونٹوں پہ گال ساقی کا

چشم تنہائی نیا چہرہ تراش

 ازدحامِ آئینہ چہرہ تراش

چھوڑ اس کو دوسرا چہرہ تراش

میں کہاں اُمید کی گُل کاریاں

یاس کا منظر ہُوا چہرہ تراش

ڈھونڈ اپنے جسم کی تیزابیت

رُوح کی شیریں فضا چہرہ تراش

Saturday, 10 October 2026

روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں

 روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں 

روز پھر خود کو میں بناتا ہوں 

روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں

اور پھر خود کو میں مناتا ہوں 

روز اک کام کرنا ہوتا ہے 

روز وہ کام بھول جاتا ہوں

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے 

سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر 

کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے کھال نوچتا ہے

 یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے 

ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے

کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے

کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے 

یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو

ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے 

مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

 مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں

کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے

آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں

صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے

دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں

لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

 لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا

تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے

خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا

آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی

شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا

نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

 نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے

نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی

مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے

میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں

میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں

 آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں

درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں

دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں

ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں

Friday, 9 October 2026

جس کو دیکھو ہے خریدار رسول عربی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس کو دیکھو ہے خریدار رسولِ عربیﷺ

مصر سے بڑھ کے ہے بازار رسول عربی

جب خدا خود ہے خریدارِ رسول عربیﷺ

کیوں نہ ہو گرمئی بازارِ رسولِ عربیﷺ

طُور پر دیکھ کے غش جس کو ہوئے تھے موسیٰ

تھا وہ اک پرتوِ رُخسار رسول عربیﷺ

دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

 اس جہاں سے دل لگانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

دل لگا کر رنج اٹھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

غم کی چوٹیں دل پہ کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

ضبط سے جاں کو گُھلانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

اف نہیں کرتے مبادا رازِ مُضمر فاش ہو

داغِ سینہ کو چُھپانا کوئی ہم سے سیکھ جائے

کیا تجھ کو کبھی آئی ہے قاضی کی وفا یاد

 انشاء ہی رہا یاد نہ منشاء ہی رہا یاد

مجھ کو تو ابھی کوئی نہیں تیرے سوا یاد

میں تو کبھی بُھولے سے بھی تجھ کو نہیں بُھولا

اور تُو نے تو بُھولے سے بھی مجھ کو نہ کیا یاد

دُنیا سے تھا نزدیک تو دُنیا نے نہ پوچھا

دُنیا سے ہوا دُور تو دُنیا نے کیا یاد

ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

 ہجوم غم سے گھبراتے نہیں ہم

محبت کر کے پچھتاتے نہیں ہم

بہت بے چین رہتے ہیں وہ اس دن

کسی دن جب نظر آتے نہیں ہم

گُلِ عارض پہ کوئی بات تو ہے

مگس کی طرح منڈلاتے نہیں ہم

ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

 ساعت غم میں بھی فریاد نہیں کر پایا

ایک مدت سے تجھے یاد نہیں کر پایا

دیکھ کر وار پہ خاموش مِری آنکھوں کو

کرنے آیا تھا جو جلاد نہیں کر پایا

میری غزلوں کو کھنگالا بھی گیا تھا لیکن

فیصلہ کوئی بھی نقاد نہیں کر پایا

اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

 اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

کسی کے ہجر کی رنگت دکھائی دیتی ہے

اُسے صدا نہیں دیتا کہ لطفِ حاصل سے

جمالِ یار میں خفت دکھائی دیتی ہے

وہ اپنے عیب بھی آئینے پر ہی دھر آیا

کمال اس شخص میں جرأت دکھائی دیتی ہے

حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

 حسن کو سمجھتا ہے عشق ہم زباں اپنا

ہے حقیقت ایسی ہی یا ہے یہ گماں اپنا

فاش ہم کریں کیونکر راز مدعا یابی

گم حصول مقصد میں حاصل بیاں اپنا

کارساز ہے کتنی دید و باز دید اپنی

مل گیا صلہ ہم کو بعد امتحاں اپنا

حسرت دل کو مار کر دیکھا

 حسرت دل کو مار کر دیکھا

بوجھ سارا اتار کر دیکھا

وقت ممکن کہاں گزارے تو

جیسے میں نے گزار کر دیکھا

کوئی میری مدد کو آیا نہیں

میں نے سب کو پکار کر دیکھا

Thursday, 8 October 2026

ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

 ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

سر ہی نہیں قابل دستار کہاں سے لاؤں

اپنی زمیں کا تھوڑا ٹکڑا تمہیں بھی دے دیں

مہاجرو! ایسے انصار کہاں سے لاؤں

زنگ آلود عجائب گھر میں رکھی ہو گی

عالمگیر کی وہ تلوار کہاں سے لاؤں

وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

 وہ حرف حرف مکمل کتاب کر دے گا

ورق ورق کو محبت کا باب کر دے گا

اُجالے کے لیے اس کو صدا لگاؤ اب

یہ کام چٹکیوں میں آفتاب کر دے گا

وہ جب بھی دیکھے گا مستی بھری نظر سے مجھے

مرے وجود کو یکسر شراب کر دے گا

لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

 لب تشنۂ تمنا کہیں جام تک نہ پہنچے

یہ سرورِ ذوقِ پیہم بھی تمام تک نہ پہنچے

بجلی گرانے والے! یہ بات یاد رکھنا

شعلہ چمن سے اٹھ کر تِرے بام تک نہ پہنچے

تیشہ زنی اکارت،۔ بے سُود سر فروشی

وہ جُوئے شِیر بھی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں

 بکتے ہیں ہمیں آپ خریدار ہمیں ہیں 

یہ طرفہ تماشا سر بازار ہمیں ہیں 

بلبل ہمیں زینت وہ گلزار ہمیں ہیں 

ہر پھول میں ہر پھل میں نمودار ہمیں ہیں 

دل ہم میں سدا رہتا ہے ہم رہتے ہیں دل میں 

ہم آپ ہی دل دادہ ہیں دلدار ہمیں ہیں 

درد روتا ہے درد دے کے مجھے

 درد روتا ہے درد دے کے مجھے

سرخ بھی زرد ہو گیا ہے اب

تم مجھے درد دے نہیں سکتے

درد ہمدرد ہو گیا ہے اب

اب کسی سے نہیں کوئی الفت

دل یہ بے درد ہو گیا ہے اب

سارے رستے تو ہو گئے مسدود

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے


سارے رستے تو ہو گئے مسدود

کاش وہ خود بخود چلے آئیں

کسی صورت کسی بہانے سے


اکرم کلیم

Wednesday, 7 October 2026

یہاں ٹھہریں وہاں جائیں کدھر ہم کوچ کر جائیں

 ہجرتوں کے سفر


مگر ہم دربدر لوگوں کی بھی اپنی کہانی ہے

پلٹ کر کس طرح جائیں

تذبذب کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے رہتے ہیں

یہاں ٹھہریں وہاں جائیں

کدھر ہم کوچ کر جائیں


جمیل احسن

تیری میری ذات کا میل

 زعفرانی کلام


تیری میری ذات کا میل

کِیکر پر انگُور کی بیل

جاہل بن بیٹے سُلطان

عالم فاضل بیچیں تیل

دو ہی انت سیاست کے

کُرسی یا اڈیالہ جیل

جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے

 جواب چیخ اٹھے ہیں سوال چیخ اٹھے

کہیں پہ لفظ کہیں پر خیال چیخ اٹھے

دکھا یہ خواب کہ کل رات مر گیا ہوں میں

گناہ جتنے تھے سب حسب حال چیخ اٹھے

کہیں امام کہیں مقتدی ملے جاہل

اذانیں سن کے ہماری بلال چیخ اٹھے

کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

 کوئی قصہ نیا سنا کر دیکھ

حرف سے حرف کو ملا کر دیکھ

جو بھی چادر بچھا کے بیٹھا ہے

اس سے نظریں سبھی ملا کر دیکھ

حیلہ گر ہے کسی ندامت میں

اس کو رستہ کوئی دکھا کر دیکھ

باب حضور میں

 بابِ حضورﷺ میں


اے ہواؤ، دریاؤ، ابر پارو

جب تک وہاں سے گزرنا

کچھ ہوا

اور پانی

اپنے ساتھ لے آنا

کہ ہم بہت پیاسے ہیں

مہربان گاؤں کے لوگ اور گھر سارے

 کم نصیبی


مہربان گاؤں کے

لوگ اور گھر سارے

جھیل، راستے، جھرنے

سائباں شجر سارے

منتظر ہی رہتے ہیں

وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

 وہ اپنی ذات میں گم تھا نڈھال ایسا تھا

مزاج پوچھنے والے کا حال ایسا تھا

کوئی چراغ سا چہرہ ادھر نہیں آیا

میں نا مراد تھا یارو کہ سال ایسا تھا

دبا دیا تھا کسی ہاتھ کو اندھیرے میں

وہ جان جائے گا میرا خیال ایسا تھا

اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

 اس دل نے رلایا ہے اک بار مجھے پھر سے

اس دل نے مجھے پھر سے وہ یاد دلائی ہے

یہ کیسی جدائی ہے جو ختم نہیں ہوتی

یہ کیسی اداسی ہے اس دل پہ جو چھائی ہے

میں نے ہی محبت کا اظہار کیا پہلے

میں نے ہی اسے جا کر یہ بات بتائی ہے

یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا

 یہ کس مقام پہ آ کر ٹھہر گئی دنیا 

ہمیں تو خواب سے محروم کر گئی دنیا

غریب پر تو ستم ڈھا رہی تھی رہ رہ کر

امیر سامنے آیا تو ڈر گئی دنیا

کہا تھا مجھ کو مصیبت میں کام آئے گی 

ستم ہے قول سے اپنے مُکر گئی دنیا 

Tuesday, 6 October 2026

بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

 بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے

اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال

کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے 

اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف

ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے

کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ

 کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ؟

بس دیکھتے ہیں دور سے ماتم تماش بین

درویش کی دھمال پہ فتوے لگائیں گے

مرشد کے التفات سے برہم تماش بین

گھنگرو کی خستگی پہ سبھی معترض تو ہیں

ٹخنوں کے زخم دیکھتے ہیں کم تماش بین

گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

 گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں

اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے

یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں

مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا

وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں

فرصت مرہمی نہ تھی زخم چھلا چھلا رہا

 فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا

صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا

ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم

مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟

جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا

خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا

وہ دشمن ہو گیا اچھا ہوا ہے

 وہ دُشمن ہو گیا اچھا ہُوا ہے

یہ لمحہ دل پہ اب لِکھا ہوا ہے

مگر سچ ہے کہ وہ بہکا ہوا ہے

مگر اے دل وہ کیوں بہکا ہوا ہے

بلائیں لے رہے تھے لوگ سارے

مگر بچہ ہے پھر سہما ہوا ہے

Monday, 5 October 2026

سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

 سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام

رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز

آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام

خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی

کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام

ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

 ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے

متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا

تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے

خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو

تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے

آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

 آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری

 کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی

طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری

لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر

بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری 

گردن سے جدا کر دو لو حاضر ہے مرا سر

 گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر

میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر

ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر

کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر

زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی

محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر

تری اک چشم رحمت سے ترا بیمار بہتر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِری اِک چشمِ رحمت سے تِرا بیمار بہتر ہے

ہزاروں طِبی نسخوں سے نگاہِ یار بہتر ہے

جگہ مِل جائے گر پاپوش گاهِ یار میں مجھ کو

خوشا یہ مسندِ طاؤس سے صد بار بہتر ہے

شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تِری پاپوش برداری

سکندر سے تِرا اِک خادمِ دربار بہتر ہے

Sunday, 4 October 2026

کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

 جوانی کتنی چھوٹی ہے


کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

نہ بنتی تھی سنورتی تھی

مِرا بس دوش اتنا ہے

کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی

نہ اشکوں سے مراسم تھے

میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی

لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

 لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے

ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے

ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے

ہم سلامت رہیں گے باہر سے

ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

 تمام عمر ہی کھاتا رہا جو مال غلط

بتاؤ کیسے نہ اٹھے گی اس کی آل غلط

کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں بزمِ خوباں میں

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

تمہارے حسن کو تشبیہ دوں تو کس شے سے

تمہارے حسن نے کر دی ہے ہر مثال غلط

Saturday, 3 October 2026

میں دل کے درد میں تڑپنے والا

 جہاں میں رہتا ہوں

وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں

یونس ایمرے کی داستان محبت میں

خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی

سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں

گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں

تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

 تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے

فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ

صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے

عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا

ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے

رات بنجر ہوئی کوئی اکھوا نہیں پھوٹتا

 رات بنجر ہوئی


کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا

رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی

رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو

کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا

ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں

Friday, 2 October 2026

جاؤ دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون

 جہاں تم نے چھوڑا ہے


جاؤ

دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

میں تو یہیں ہوں

کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے

 کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے

رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتے

کیسے ہو گی بسر ہم نہیں جانتے

آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیں

فرق جان و جگر ہم نہیں جانتے

غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

 غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے

ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے

وفا کے راستوں میں کھو گیا دل

کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے

جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے

وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے

خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی

 اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی

خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی

​اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں

اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی

پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر

ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی

Wednesday, 30 September 2026

اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی

 اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی

سو ہم سے غمِ یار کی عزت نہیں ہوتی

لاحق ہو جنہیں اپنوں سے ہی جان کا خطرہ

ان کے لیے کوئی صبر کی آیت نہیں ہوتی

ماں باپ کو یہ کہہ کے نکالا گیا گھر سے

اب ہم سے مزید آپ کی خدمت نہیں ہوتی

بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا

 بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا 

خود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھا

دست نازک سے زر گل کا بھی اٹھنا ہے محال 

یہ تو فرمائیے کس وجہ سے توڑا اٹھا

جب پکارے لب جاں بخش سے وہ مر گئے ہم 

نا توانوں سے نہ بار دم عیسیٰ اٹھا

آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں

 آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں

آپ کے حکم پہ خود پر بھی جفا کرتے ہیں

آپ کا ساتھ نباہا تھا خوشی میں، غم میں

آپ کی یاد بھی اب دل سے جدا کرتے ہیں

وصل میں آپ کے تو آدمی بھی نہ بن سکے

آپ سے ہو کے جدا خود کو خدا کرتے ہیں

سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

 سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے

نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں

ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے

جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں

کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے

کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی

سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے

ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح

ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے

Tuesday, 29 September 2026

تو دیا میں باتی ہوں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


تُو دِیا میں باتی ہوں

ساتھ نہ چھوڑوں گی

سوگندھ یہ کھاتی ہوں


سیما پیروز

عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

 میں اور خوابوں کا اندوختہ


عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

بکھری بکھری بے ترتیب چیزوں میں

لمحہ لمحہ بکھر گیا

بس ایک جھونکا کبھی غبار کا

اِس سمت سے اُس سمت تک

الگ کر دیتا ہے

دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

 دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

آباد رفتہ رفتہ یہ ویرانہ ہو گیا

وہ ہیں کہ دو جہان کو اپنائے جاتے ہیں

میں ہوں کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گیا

جلنے کا شوق اف ترے کشتے کی خاک کا

جو ذرہ اڑ گیا وہی پروانہ ہو گیا

ہر بات پہ انکار کرے ہے بت کافر

 ہر بات پہ انکار کرے ہے بُتِ کافر

تُو شخص تو اچھا ہے مگر تیرے عناصر

اے شہر تمنا میں سکونت کے بِھکاری

اس شہر میں آباد نہیں کوئی مہاجر

خوش رہنے کی تاکید نہ کر وقت ہے اب بھی

گر مان لیا میں نے کہیں تیرا کہا پِھر

حکم ہے اس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

 حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے

یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے

دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے

یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب

کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے

Monday, 28 September 2026

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

 اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے

راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا

خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے

چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو

دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے

مشکل تری اڑان ہے سورج نظر میں رکھ

 مُشکل تِری اُڑان ہے سُورج نظر میں رکھ

تاریک آسمان ہے سورج نظر میں رکھ

جانا ہے روشنی کی طرف لوٹ کر تجھے

دو پل کا یہ جہان ہے سورج نظر میں رکھ

بے رنگ اس کے پھُول ہیں بے نُور ہر شجر

جنگل یہ گُلستان ہے سورج نظر میں رکھ

کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس

 کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس

جو اب ہمارے دور کے ہے گُلستاں کے پاس

کتنی ہیں بستیاں جو معلّق خلا میں ہیں

کتنے جہاں، رُکے ہوئے ہیں کہکشاں کے پاس

چٹیل ہیں رہگزاروں کے سینے کُھلے ہوئے

اب خاک بھی نہیں ہے کسی کارواں کے پاس

لذت درد جگر دوست بڑھا دیتا ہے

 لذتِ دردِ جگر دوست بڑھا دیتا ہے

زخم رِستا ہے تو کچھ اور مزا دیتا ہے

میرے زخموں پہ نمک روز چھِڑک دیتا ہے

جانے کس جرم کی وہ مجھ کو سزا دیتا ہے

تلخ باتوں سے مِرے دل کو دکھاتا ہے روز

میرا ہو کے مِرے زخموں کو ہوا دیتا ہے

قرآن معجزہ ہے بشارت حدیث ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قرآن مُعجزہ ہے، بشارت حدیث ہے

خالق کو خلق سے ہے محبت، حدیث ہے

ہمسائے کے حقوق ادا ہونے چاہئیں

دُکھ سُکھ میں ہونی چاہیے شرکت، حدیث ہے

گندم کی بالیوں میں بشارت ہے اجر کی

تقسیم ہونی چاہیے دولت، حدیث ہے

آرزو تھی کہ کبھی ان کے روبرو ہوتے

 آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے

اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے

ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے

ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے

ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں

کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے

Sunday, 27 September 2026

جو کر کے رفو پیرہن ناچتے ہیں

 جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں

چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں

ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی

سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں

ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا

مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں

بڑا بے ڈھنگ تھا جب تم نہیں تھیں

 بڑا بے ڈھنگ تھا، جب تم نہیں تھیں

میں خود سے تنگ تھا، جب تم نہیں تھیں

میں اب رنگین غزلیں کہہ رہا ہوں

سخن بے رنگ تھا، جب تم نہیں تھیں

تمہارا کون تھا، جب میں نہیں تھا؟

میں کس کے سنگ تھا، جب تم نہیں تھیں

دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی

 دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی

تم چلے اُٹھ کے مِری جان قیامت آئی

آپ کے ظُلم نے دی میری وفا کو شہرت

کہ مِرے خُون سے بھی بُوئے محبت آئی

سچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز

شمع بھی بُجھ گئی جس دم سرِ تربت آئی

کاش منت کش اظہار نہ ہونا پڑتا

 اظہار

اپنی شریک حیات الزبتھ (زیبا کے لیے)


اب تِرے جسم سے اُٹھتی ہوئی خُوشبو کی لپٹ

میرے احساس پہ آویزاں ہے

گرم ہے کمرے کی خاموش فضا

تیرے عارض پہ پسینے کی نمی

ذہن میں لاتی ہے برسات کی پہلی راتیں

میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

 میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے

دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے

کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں

پھرتی ہے تیری یاد لیے در بدر مجھے

منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف

میں ہمسفر کو بھول گیا ہمسفر مجھے

Saturday, 26 September 2026

لو آج میرے سارے خواب توڑ دو

 لوٹا دو


لو! آج میرے سارے خواب توڑ دو

بہت سنبھال کر رکھا ہے جن رتجگوں کو پلکوں پر

وه سارے کے سارے آج مجھے لوٹا دو

میری وه الہڑ عمر، وه بانکپن

وه میرے عارض کی دھنک رنگ رنگت

وه میری کھنکتی ہنسی

اسی لیے ہی تو حد بیاں سے آگے ہے

 اسی لیے ہی تو حدِ بیاں سے آگے ہے

علیؑ زمانے کے وہم و گماں سے آگے ہے

علیؑ کو مان رہا ہوں میں روزِ اول سے

مِرا یقین تمہارے گماں سے آگے ہے

نصیری اور مقصر جہاں تلک پہنچے

یقین مان علیؑ تو وہاں سے آگے ہے

زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں

 زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں

جس طرف بھی دیکھیے اب دل کو کچھ بھاتا نہیں

دوستی بھی دیکھ لی اور دشمنی بھی دیکھ لی

دونوں رشتوں سے ہی انساں کچھ کبھی پاتا نہیں

کس لیے انساں کے دل نے پائی دولت کی ہوس

اس جہاں سے ساتھ اپنے کچھ وہ لے جاتا نہیں

دانا جو کہہ رہے ہیں منافق کو عقل مند

 دانا جو کہہ رہے ہیں مُنافق کو عقل مند

سو ہو گیا ہوں میں بھی تھوڑا مصلحت پسند

خُوئے غُلامی راس جِسے آ گئی یہاں

کیسے بھلا وہ ہو گا کبھی پھر خطر پسند

کج فَہمی کھا گئی ہے مِری نسل کا شعور

ہر شخص مِرے شہر کا اک خول میں ہے بند

Friday, 25 September 2026

تھی کوئی تمثیل گل شاخ گماں سے بے خبر

 تھی کوئی تمثیل گُل شاخِ گُماں سے بے خبر

عکس تھا ٹھہرا ہوا آبِ رواں سے بے خبر

جانے کیسی دُھن میں تھے ہم، بے خطر چلتے رہے  

غلغلۂ شہر غوغائے سگاں سے بے خبر 

غم سے بھر آئے اگر  تو خُود سے ٹکراتا ہے دل 

ٹُوٹتا ہے یہ سبو شیشہ گراں سے بے خبر

ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے ملا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے مِلا

چراغِ نقشِ کفِ پا تِرا جہاں سے ملا

یہ کِن اُجالوں کی بستی کا تُو مسافر تھا

کہ آفتاب تِری گردِ ارواں سے ملا

خلا رہا نہ کہیں خلق اور خدا میں کوئی

کہ یوں زمیں کو دیا تُو نے آسماں سے ملا

Thursday, 24 September 2026

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا

کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے

میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا

آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو

اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا

Tuesday, 22 September 2026

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے

دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے

آسمان پر انسانوں کا سایا ہے

ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے

ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے

وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

 وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

وہ وہاں اور دور دیکھیں تو

دل کہیں بعد ہے مگر پہلے

ہے نظر کا قصور دیکھیں تو

جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے

اس نظر کا غرور دیکھیں تو

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

 موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے

ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر

دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے

فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے

خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

 زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں

سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں

اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں

مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا

کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں

Sunday, 20 September 2026

کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں

 کچھ عشقِ بُتاں کچھ فکرِ جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے

کشتی کو تلاطم کا خطرہ، اور دُور کِنارہ کیا کہیے

اپنوں کے ہمیشہ جور و سِتم غیروں کا سہارا کیا کہیے

کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گُزارا کیا کہیے

بھٹکا ہوا آنسُو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے

جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں اُلجھا ہوا تارا کیا کہیے

آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

 آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا

مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا

سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا

صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم

برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا

تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے

 تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے

تم گُلوں کی آبرو ہم آشیاں بن جائیں گے

آستانِ رب کے سجدے تم کرو گے رات دن

دیکھنا اس در کے ہم ہی آستاں بن جائیں گے

شوق سے سنتے ہو بیٹھے داستاں تم دوستو

آنے والے کل میں ہم خود داستاں بن جائیں گے

حضرت دل جناب کی خاطر

 حضرتِ دل جناب کی خاطر

عاقبت ہے عذاب کی خاطر

ترکِ لذّات اور میں، توبہ

ایک روزِ حساب کی خاطر

حضرتِ شیخ آپ بھی پی لیں

اک ذرا سی ثواب کی خاطر

Saturday, 19 September 2026

کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

 کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات 

مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں 

اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات

دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے

سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات

پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

 پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی

الفاظ سے خوشبو تِرے کردار کی نکلی

جب بات مسیحا تِرے گفتار کی نکلی

نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن

رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی

وہ ایک شخص جو پورا مرا نہیں بنتا

 وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا

خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا

کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو

کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا

ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو

عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا 

ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو*/تروینی/ترائلے


 کھلتی خوبانیوں کی خوشبو سے

شام مہکی ہے میرے آنگن میں

ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا


محمد امین

تیرے تحفے میرے نام

 میری چاہتوں کے سفر کا حاصل

دنیا والوں کے سبھی طعنے

ویران دن، اداس راتیں

جسم و جاں کے سب عذاب

تیرے تحفے

میرے نام


منور بلوچ

Friday, 18 September 2026

زندگی سے سفر نہیں جاتا

 زندگی سے سفر نہیں جاتا

کیوں مقدر سنور نہیں جاتا

شوقِ آوارگی ہے اس کو بھی

رات بھر میں بھی گھر نہیں جاتا

دے رہا ہے مجھے اذیت یہ

وقت یہ بھی گزر نہیں جاتا

یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

 یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا

اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل

ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا

جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی

بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا

در بدر مدحت سرکار سناتا ہوا میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


در بدر مدحتِ سرکارؐ سناتا ہُوا میں

اپنی بخشش کا سامان بناتا ہوا میں

آپﷺ ہیں مسند محمود پہ جلوہ افروز 

اور غلاموں میں کھڑا نام لکھاتا ہوا میں

روکتے کھینچتے دوزخ سے بچاتے ہوئے آپؐ

اور دوزخ کی طرف دوڑ لگاتا ہوا میں

کوکب سب افلاک میں گم

 کوکب سب افلاک میں گُم

صوفی رُوحِ پاک میں گم

کھنڈر ہوئی ہر اونچی حویلی

پھر بھی اونچی ناک میں گم

حُسن ہے ساتھ حجابوں ہی کے

ہر منظرِ بے باک میں گم

ایک لمحے کا ہے یہ جہاں دوستو

 ایک لمحے کا ہے یہ جہاں دوستو

ہم رہیں پھر کہاں، تم کہاں دوستو

اتنا سامان شانوں پہ کیوں لے چلیں

مُختصر ہے بہت یہ جہاں دوستو

ان بہاروں کو دائم سمجھنا نہیں

آئے گی کل خزاں بھی کہاں دوستو

وہی عذاب وہیں آسرا بھی جینے کا

 وہی عذاب، وہیں آسرا بھی جینے کا

وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا

میں بے لباس ہی شیشے کے گھر میں رہتا ہوں

مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا

وہ دیکھ چاند کی پُر نُور کہکشاؤں میں

تمام رنگ ہے خُورشید کے پسینے کا

Thursday, 17 September 2026

شب ہجراں میں دم نکلتا ہے

 شبِ ہِجراں میں دم نِکلتا ہے

کب پیامِ وصال ٹلتا ہے

دلِ بیمار سے ہے تنگ مسیح

داغ سے آفتاب جلتا ہے

بے زری سے ہوں پائمال بُتاں

 زور کس کا خُدا سے چلتا ہے

بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا

 بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا

وہی جلوہ نما جس طرف دیکھا جہاں دیکھا 

کوئی پوچھے نبیؐ سے کیا شہ کون و مکاں دیکھا

پس پردہ تھا کیا اور کیا سر پردہ وہاں دیکھا 

کہیں گے جان جاں نے جلوہ جانانِ جاں دیکھا

اٹھا پردہ تو دستِ حضرت حیدرؑ عیاں دیکھا 

عرصۂ خواب میں ہوں ہوش سے رخصت ہے مجھے

 عرصۂ خواب میں ہُوں ہوش سے رُخصت ہے مجھے

گردشِ شام و سحر ساغرِ غفلت ہے مجھے

اِک مِری لغزشِ پا سے ہے زمانے کو خرام

نغمۂ شہرِ سخن وقفۂ لُکنت ہے مجھے

کیوں ہو تنہائی میسّر تجھے اے دل کہ جہاں

خود مِرا سایہ بھی ہنگامۂ کثرت ہے مجھے

Wednesday, 16 September 2026

کبھی جالی کبھی گنبد کبھی مینار کے پاس

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کبھی جالی کبھی گُنبد کبھی مینار کے پاس

بیٹھ کر نعتیں لکھوں روضۂ سرکارؐ کے پاس

کہکشاں یا مہ و خُورشید ہوں آتے ہیں سبھی

نُور لینے کے لیے مرکزِ انوار کے پاس

با ادب حُور و ملک جِن و بشر شاہ و گدا

ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں درِ سرکارؐ کے پاس

ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے

 ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے

درد جو دل کا ہے اشکوں کی زبانی سنیے

یاد اک پھانس ہے رہ رہ کے کسک جاتی ہے

اب کبھی پریت نہیں اتنی بڑھانی سنیے

ساتھ ہو کوئی تو چھالے بھی مزا دیتے ہیں

جیٹھ کی دھوپ بھی لگتی ہے سہانی سنیے

ایک موہوم سی خوشی کی طرح

 ایک موہوم سی خوشی کی طرح

تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح

تیرگی کے اداس جنگل میں

ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح

غم دوراں سنوار دوں تجھ کو

اپنے گیتوں کی دلکشی کی طرح

Tuesday, 15 September 2026

کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا

 کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا

اس کا مجھ کو کبھی گلہ نہ ہوا

سب کی کرتا رہا بھلائی میں

پھر بھی میرا کبھی بھلا نہ ہوا

ہو گئے مجھ سے وہ جدا پھر بھی

درد دل سے مگر جدا نہ ہوا

دل کہیں مبتلا نہ ہو جائے

 دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے

بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے

عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا

بات اپنی خطا نہ ہو جائے

درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں

خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے

جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی

 جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی

سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی

گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام

لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی

ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو

رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی

Monday, 14 September 2026

جو ترے در پہ دوانے سے آئے بیٹھے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں

وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں

فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر

جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں

طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی

ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں

پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

 وقت کی قیمت کیا ہے


کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ

ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ

چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے

کہتے ہیں روشنی میں آ

کہا ہوا سنا

سنائیں کس طرح

Sunday, 13 September 2026

نوحہ میرے کتے مجھ سے بہتر جینے والے

 نوحہ


میرے کتے

مجھ سے بہتر جینے والے

آج تو میری خاطر بھونک

میرے حال پہ نوحہ کہہ

جو دھرتی افلاک ہلا دے

جس پر میں تقسیم ہوا ہوں

تھکن سے چور بے کنار سو گئی

 تھکن سے چُور بے کنار سو گئی

ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی

اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر

یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی

لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی

وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی

جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

 جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے

یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے

سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے

چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا

یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے

اب کسی پار اتر جانے کو جی چاہتا ہے

 اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے

زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی

اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن

بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے

Saturday, 12 September 2026

مدحت قریۂ سرکار میں آ جاتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدحتِ قریۂ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں

مہر و انجم مرے اظہار میں آ جاتے ہیں

یہ بھی سرکارؐ کی رحمت ہے کہ ہم سے عاصی

منہ اٹھائے ہوئے دربار میں آ جاتے ہیں

اسوۂ احمدِ مُرسلﷺ پہ جو چلتے ہیں یہاں

نام وہ صاحبِ کردار میں آ جاتے ہیں

Friday, 11 September 2026

کئے پرورش وہ تو چاہت کے ساتھ

 کئے پرورش وہ تو چاہت کے ساتھ

رکھیں دائیاں نیک اور پاک ذات

کئے پرورش وہ جو پالے تھی ماں

زر و مال کیا تھا تصدق تھی جاں

نہ اولاد تھی ان کو اور آل تھی

وہ ہوتے تھے صدقے یہ دیکھ بھال تھی

شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

 شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے

دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟

ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے

میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا

وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے

کون کہتا ہے غم مصیبت ہے

 کون کہتا ہے غم مصیبت ہے

یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے

لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں

میرے حق میں تو یہ قیامت ہے

حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی

کب عبادت کوئی عبادت ہے

اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے

 اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے

زندگی موت سے آزاد بھی ہو سکتی ہے

پیاس اک پیاس جسے ماں کی دُعا ملتی پے

شہرِ مکٌہ کی وہ بُنیاد بھی ہو سکتی ہے

تُو مکمل سی کمی ہے کہ محبت ہے؟

یا فقیری کی یہ رُوداد بھی ہو سکتی ہے؟

Thursday, 10 September 2026

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں

 نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں 

دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں

نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں 

یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں

لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی 

میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں

آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج

 آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج

فخر سے عرشِبریں پر مِرا پہونچا ہے مزاج

کبھی بے گانہ وشی اور مدارات کبھی

کبھی عجب قسم کا اس شوخ نے پایا ہے مزاج

خاک میں مل کے ہوئے خاک بالآخر جن کا

عُجب و پندار سے افلاک پہ دیکھا ہے مزاج

مرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

 مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے

وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج

وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے

صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں

چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے

خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

 خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی

اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے

دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی

ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے

چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی

فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے

 فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے

نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے

یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے

ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے

یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ‌ جام کے ساتھ

چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے

Wednesday, 9 September 2026

لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

 لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

کہ اب جنگل سے بھی بدتر مِرے شہروں کی حالت ہے

کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش

مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے

بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے

وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے

زمینی خلد سے رخصت ہوئی

 مادرِ مخلوق غم آسا؛ مدر ٹریسا


زمینی خُلد سے رخصت ہوئی مادر

بشر زادی

فرشتہ خصلتوں والی

مسیحا دردمندوں کی

دریدہ جسم کا مرہم

بِلکتی روح کی تسکین

رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

 رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا

شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے

وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا

ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد

کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا

صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

 صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام

میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس

شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام

سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند

اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام

دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے

 دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے

شام ہوئی اور بام و در خاموش ہوئے

شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا

کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے

بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں

شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

 ہماری طرح کوئی دوسرا ہُوا بھی نہیں

وہ دردِ دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں

اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشمِ شوق مدام

جو غم ابھی سرِ شاخِ الم کِھلا بھی نہیں

ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں

وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کُشا بھی نہیں

Tuesday, 8 September 2026

سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

 سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

تمنّا آج کیوں چنچل نہیں ہے

اُترتے ہیں بھنور دل میں ہزاروں

لبوں پر تو کوئی ہلچل نہیں ہے

حرِیر و پرنیاں والوں سے یہ کہنا

غریبوں کے لیے آنچل نہیں ہے

انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

 انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا

غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو

زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا

دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا

میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا

میرا جیون کچھ کام نہ آیا

 فلمی گیت


میرا جیون کچھ کام نہ آیا

جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا


اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی

آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی

خُوشیوں کو روتے روتے

دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

 ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں

شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری

ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں

بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی

نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں

پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

 پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے

گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا

پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے

جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی

بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے

Monday, 7 September 2026

چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

 چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی

ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں

ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی

بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے

چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی

کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

 کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں

تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم

ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں

تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی

جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں

شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

 شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے

ہے تری یاد مونس شبِ غم

تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے

عشق محزوں کی خیر یو یا رب

آج ان کا مزاج برہم ہے

جائیے شیخ جی جائیے

 جائیے شیخ جی جائیے

منہ ہمارا نہ کھلوائیے

تاؤ کے بدلے غم کھائیے

ڈھب شریفانہ اپنائیے

پیار جیسی کوئی شے نہیں

پیار سے سب سے پیش آئیے

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

 اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں

مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا

جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں

زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا

میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں

وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

 وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی

اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا

مجھ پر ستمگروں کی عنایت نہیں رہی

جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں

کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی

Sunday, 6 September 2026

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

 دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے

گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں

جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے

ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں

دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

 دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم

سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم

ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم

وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم

طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم

مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

 مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

آنکھیں شراب و جام ہیں چہرہ کتاب ہے

تعریف ہو گئی تِری،۔ تُو کامیاب ہے

میں کیا کروں کہ تُو بھی مِرا انتخاب ہے

وہ قہر ہے، ثواب ہے، کوئی عذاب ہے

لیکن جناب! تیرِ نظر کامیاب ہے

ہر کسی کی ہستی کا ناخدا تو ہوتا ہے

 ہر کسی کی ہستی کا ناخدا تو ہوتا ہے

یہ بھنور ہی ایسا ہے ڈوبنا تو ہوتا ہے

صاف صاف لہجے میں بات کرنی پڑتی ہے

فاصلے تو بڑھتے ہیں، فیصلہ تو ہوتا ہے

بارِشوں کے موسم میں رتجگے تو ہوتے ہیں

موسمی تبدل ہے عارضہ تو ہوتا ہے

Saturday, 5 September 2026

یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقش پا ہو گا

 یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا

میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا

وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے

اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا

رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے

آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا

ہم نہیں اتنے برے وہ جو برا کہتے ہیں

 ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں

لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں

ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر

کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں

بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو

ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں

اپنے جیون کی الجھن کو کیسے میں سلجھاؤں

 فلمی گیت


اپنے جیون کی اُلجھن کو کیسے میں سُلجھاؤں

اپنوں نے جو درد دئیے ہیں کیسے میں بتلاؤں


پیار کے وعدے ہو گئے جھُوٹے، وفا کے بندھن ٹُوٹے

بن کے جیون ساتھی کوئی، چین میرا کیوں لُوٹے

ایسے جیون ساتھی سے میں کیسے ساتھ نِبھاؤں

مرے اس شہر میں کیوں حسن ہے بازار کی وحشت

مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت

جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت

مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت

مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت

عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب

جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت

کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

 کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے

ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں

مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے

جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں

کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے

Friday, 4 September 2026

عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

 عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے

جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی

اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے

عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے

ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے

درد کی جب انتہا ہو جائے گی

 درد کی جب انتہا ہو جائے گی

انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی

رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود

زندگی غم آشنا ہو جائے گی

کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا

ورنہ توہین وفا ہو جائے گی

قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

 قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی

کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا 

میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی

ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے

مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی

یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

 زعفرانی غزل


یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے

شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا

آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے

کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب

لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے

اگر عزت ملے تو سر تکبر سے اٹھانا مت

 اگر عِزت مِلے تو سر تکبّر سے اُٹھانا مت

کسی کی خاک کو تم اپنے پیروں سے اُڑانا مت

یہ نفرت بھی محبت کا پُرانا رُوپ لگتی ہے

محبت رُوپ بدلے تو کبھی دھوکے میں آنا مت

اگر یہ بن گیا تو پھر تمہیں ہی بانٹ کھائے گا

جو دریا عشق کا ہے اس پہ کوئی گھر بنانا مت

مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں

باالفاظ دگر خلد نظر کی بات کرتے ہیں

ستاروں کی نہ ہم حُسنِ قمر کی بات کرتے ہیں

جمال حضرت خیرالبشرﷺ کی بات کرتے ہیں

مبارک ذکر جنت آپ کو اے حضرت‌ِ واعظ

ہم اپنے جذبِ دل ذوقِ نظر کی بات کرتے ہیں

ہر دل میں ترا سودا ہر آنکھ تمنائی

 ہر دل میں تِرا سودا ہر آنکھ تمنائی

اے زینت! ہر محفل، ہنگامۂ تنہائی

کعبے میں جسے ڈھوُنڈا بُتخانے میں ڈھونڈا تھا

مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی

شوخی ہے حیا پرور دُزدیدہ نگاہیں ہیں

سمجھے نہ کوئی اس کو اندازِ شناسائی

Thursday, 3 September 2026

جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا ہمارا

 فلمی گیت


جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا ہمارا

اگر نہ ملتے اس جیون میں، لیتے جنم دوبارا

جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا۔۔۔۔۔


جب سے گُھومے دھرتی، سُورج، چاند، ستارے

تب سے میری نگاہیں، سمجھے تیرے اشارے

رُوپ بدل کر ساجن میں نے، پھر سے تمہیں پُکارا

گریباں چاک ہے تو ہو ابھی دستار باقی ہے

گریباں چاک ہے تو ہو ابھی دستار باقی ہے

چلے آنا، تماشا بر سرِ بازار باقی ہے

ابھی سیلِ ندامت کی نئی یلغار باقی ہے

ابھی تک خانۂ دل کی کوئی دیوار باقی ہے

بگولے اور بھی اٹھیں گے شاید کِشتِ وِیراں سے

کہ خاکِ کُشتگاں میں خواہشِ آثار باقی ہے

کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

 کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں

کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر

جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں

کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر

ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں

Wednesday, 2 September 2026

میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ

 میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ

کوئی بتا نہ سکا تیرے آستاں کا پتہ

ہزاروں دوست نما لوگ ہمسفر تھے مگر

کسی کو اپنی خبر تھی نہ کارواں کا پتہ

خدا کرے نہ پڑے اس پہ بجلیوں کی نظر

ابھی ملا ہے مجھے میرے آشیاں کا پتہ

یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسنِ یوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں

یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں

دشمنِ آلِؑ محمدﷺ سے سروکار نہیں

ہم محمدﷺ کے وفادار ہیں غدار نہیں

تاج بھی غیر سے لینے کو تیار نہیں

آپؐ کے در کے بھکاری کا یہ معیار نہیں

بھٹکیں ترے مدار میں گردش نہ کر سکیں

 بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں

ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں

ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں

آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں

پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں

ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں

جاہ و منصب ہے نہ اب حشمت سلطانی ہے

 جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے

اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے

آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے

جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے

ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا

دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے

Tuesday, 1 September 2026

ایک پہیا تو سرکس میں چلتا ہے

 سرکس


وہ دونوں

لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش

لگاتار چلتے ہیں

کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو

کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں

یکجان ہو کر

میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا

 فلمی گیت


میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا

جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا

میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔


اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول

نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول

کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا

نیا سورج نیا جلوہ نئی تنویر لے آؤ

 نیا سُورج، نیا جلوہ، نئی تنویر لے آؤ

ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آؤ

زباں بھی بند کر لیتے مگر اب حکم آیا ہے

تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آؤ

مِرے خوابوں بڑی مشکل سے اس دل کو سُلایا ہے

کہیں ایسا نہ ہو تم پھر وہی تصویر لے آؤ

Monday, 31 August 2026

دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

 دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے

ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا

سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے

اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم

بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

 یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب

منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب

زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا

اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب

جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ

آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب

کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا

 کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا

پیش بُت سجدہ ہے اور دَیر ہے ایواں اپنا

جُھکتے تُربت پہ نہیں جُھکتے کسی اور سے ہیں

ماسوا اس کا کہاں راز ہے پنہاں اپنا

دیکھ تو چشمِ بصیرت سے انہیں اے مُنکر

ان بُتوں میں ہی تو ہے رنگ نمایاں اپنا

Sunday, 30 August 2026

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہوں مگر مجبور جینے کو اندھیرے شہر میں

کھیتیاں سُوکھی پڑی تھیں چار سُو دیہات میں

جم کے برسے اس طرف بادل گھنیرے شہر میں

سب مکیں سہمے ہوئے، خاموش ہیں دیوار و در

گُھومتے ہیں ہر طرف قاتل، لُٹیرے شہر میں

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

 لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

جن میں ہو کیفِ زندگی بہرِ خدا وہ کام کر

طورِ حیات سے اُڑا جذبۂ زیستن کی آگ

جب کہیں جا کے نیّتِ زندگی دوام کر

پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے

بعد کو دل میں خواہشِ دانۂ زیرِ دام کر

وقت کی قید نہیں زلف کے سلجھانے میں

 وقت کی قید نہیں زُلف کے سُلجھانے میں 

رنگ بھرتی ہے چلی جاتی ہوں افسانے میں 

میں وہ مے کش ہوں سرشام ہی میخانے میں 

غموں کو گھول کے پی جاتی ہوں پیمانے میں 

آزمانا ہے تو  پھر شمع کو جلا کے دیکھو

موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں 

سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

 سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں

میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر

میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں

ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ

ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں

پانی سے کب پیاس بجھائی جا سکتی ہے

 پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے

دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے

اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں

پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے

پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا

خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے

Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

ناصح کو بڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

 ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک

کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک

پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک

سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں

بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک

اکتا کے کوئے یار سے عشاق چل پڑے

 اُکتا کے کُوئے یار سے عشاق چل پڑے

کارِ وفا کے دیکھیے مُشتاق چل پڑے

میں اُٹھ گیا تو درد کی محفل اُجڑ گئی

میرے ہی ساتھ عشق کے مشّاق چل پڑے

نقشِ قدم پڑے ہیں یہ قُدرت کے جا بجا

دُنیائے دل سے اُٹھ کے بد اخلاق چل پڑے

Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

خواب شیریں ہی کل اثاثہ ہے

 خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے

اور حقیقت فقط تماشہ ہے

کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا

اک بھرم جو نیا تراشہ ہے

ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر

اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے

Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا

گفتگو کھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بیچ

 گُفتگو کُھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بِیچ

مسئلے وہ حل کریں گے چار دیواروں کے بیچ

شہر کی اُونچی فصیلوں میں مِرے گھر کا وجود

ایک ننھا سا دِیا ہو جیسے کُہساروں کے بیچ

گُم ہوئی کتنی صدائیں، جل بُجھے ہونٹوں کے بول

کتنی آوازوں نے دم توڑا ہے نقّاروں کے بیچ

شب کے کالے گنبد میں اک نوری در تخلیق ہو

 شب کے کالے گُنبد میں اک نُوری در تخلیق ہو

قُدرت کے ہاتھوں سے کیا عُمدہ منظر تخلیق ہوا

پہلے آہن زاد چھُری سے نازک گردن کٹتی تھی

پھر دل پر برسانے کو لفظی خنجر تخلیق ہوا

قطرہ قطرہ جُثہ پگھلا ہاتھوں پر چھالے چمکے

ایک گھروندا رہنے قابل تب جا کر تخلیق ہوا

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

 نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں

مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں

یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں

مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں

مجھ پر بھی بے اثر تھا اجالا کبھی کبھی

 مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی

مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی

بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا

وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی

سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا

ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی

Wednesday, 26 August 2026

جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

 جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے

پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے

پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے

گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا

اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

 ایک ہی جست پر کھڑی ہے

زندگی میرے اندر کہیں گڑی ہے

ایک پھانس کی طرح جیسے

سینے کے فریم میں جڑی ہے

میرے حق میں آستین چڑھا کر

زندگی مجھ سے اکثر لڑی ہے

تم نے آواز مجھ کو دی شاید

 تم نے آواز مجھ کو دی شاید

دل کی دنیا بدل گئی شاید

مل گئے تم تو یوں ہوا محسوس

مل گئی مجھ کو زندگی شاید

ہر تمنا ہے خوشگوار مگر

غم کی تمہید ہے یہی شاید

Tuesday, 25 August 2026

میرا اس کا ساتھ نہیں ہے

 میرا اس کا ساتھ نہیں ہے

میں کیا جانوں

کون ہے وہ کیا نام ہے اس کا

کس کے گھر میں آیا تھا وہ

اور کس کے گھر سے نکلا ہے

میں کیا جانوں

پہلے مری حدود کو منفی کیا گیا

 پہلے مِری حدُود کو منفی کیا گیا

پھر یوں ہُوا وجُود کو منفی کیا گیا

بے مایہ میرے جسم میں رو دوڑنے لگی

یوں میرے ہر جمُود کو منفی کیا گیا

دریائے بے کنار میں ڈُوبا ہوا ہوں میں

جب سے مِرے شہُود کو منفی کیا گیا

کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

 کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

کب تک اے موت بھلائے گی مجھے

غیرتِ عشق چُھپائے گی مجھے

نظرِ غیر نہ پائے گی مجھے

کب تک اے شمع سرِ شامِ حیات

روئے گی اور رُلائے گی مجھے

رات میری اک سہیلی

  رات


رات میری اک سہیلی

میری طرح وہ اک پہیلی

ہم دونوں جُگنوؤں کے تعاقب میں دیوانہ وار دوڑتیں

پھر تهک کر شبنم زدہ گهاس پر گر پڑتیں

آسمان کے ستارے گِنتیں

چاند سے آنکھ مچولی کهیلتیں