عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر
جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر
❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤
سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر
پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے
تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر
عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر
جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر
❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤
سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر
پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے
تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر
درست ہے کہ مِرا حال اب زبوں بھی نہیں
مقامِ سجدہ کہ یہ جام سر نگوں بھی نہیں
نہیں کہ شورشِ بزمِ طرب فزوں بھی نہیں
دلیلِ شورشِ جاں اک چراغ خوں بھی نہیں
حدیثِ شوق ابھی مختصر ہے چپ رہیے
ابھی بہار کا کیا غم ابھی جنوں بھی نہیں
خواب کی رات سے نکل آئی
اپنے جذبات سے نکل آئی
وہ ملاقات جو تصوّر تھی
اس ملاقات سے نکل آئی
میرے بس سے نکل گئے حالات
میں بھی حالات سے نکل آئی
جو مِرا ہمنوا نہیں ہوتا
وہ تِرے شہر کا نہیں ہوتا
شاخ پر ہیں ہرے بھرے پتّے
پھُول لیکن ہرا نہیں ہوتا
آج بھی آہنی جنُوں کا حق
پتھروں سے ادا نہیں ہوتا
آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے
مِرے ہر زخم کے ٹیسوں میں کمی ہوتی ہے
آپ کہتے تھے میں آسودہ ہوں اپنے گھر میں
پھر یہ کیوں آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے
اب مِرے ہجر کو اوقات کے خانے میں نہ رکھ
ایک لمحہ بھی یہاں ایک صدی ہوتی ہے
دل میں تو ملاقات کی خواہش بھی بہت ہے
پر راہ بہت دور ہے، بارش بھی بہت ہے
دیکھو تو سہی خواہ اُچٹتی سی نظر سے
میرے لیے اتنی سی نوازش بھی بہت ہے
تُو نے تو کہا تھا کہ؛ نمائش نہیں اچھی
اک داغ دکھایا، یہ نمائش بھی بہت ہے
اس ایک در کو بھی دیوار کر کے آیا ہوں
میں اپنے آپ سے انکار کر کے آیا ہوں
مجھے خبر ہے کہ یہ پیاس مار ڈالے گی
مگر میں آب کو دُشوار کر کے آیا ہوں
بچا بچا کے رکھا تھا جسے زمانے سے
وہ گُنبد آج میں مسمار کر کے آیا ہوں
خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے
میری وحشت نے فقط حال زبوں دیکھا ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں گاؤں کی پُر شور فضا
تم نے بس شہر کی گلیوں کا سکوں دیکھا ہے
یہ بتا آنکھ میں حیرت اُتر آئی کیسے؟
یہ نہ سمجھا کہ مجھے پیار سے کیوں دیکھا ہے
سُنا ہے قُندوز میں بچے مرے ہیں
مجھے سری دیوی کا غم ہے
میں اسٹیفن پہ آنسو بہا رہا ہوں
دونوں کو جنت لے جانا چاہ رہا ہوں
خونِ مُسلم بہت ارزاں ہے
تم کیوں غمگین ہو
ایسے تعمیر اُٹھا دی میں نے
پہلی دیوار گِرا دی میں نے
مجھ سے پُوچھا گیا میرا مسلک
تیری تصویر بنا دی میں نے
کوئی دیکھے نہ مِرا نظارہ
ایک چِلمن سی گِرا دی میں نے
چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو
مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو
ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ
کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو
ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے
چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو
اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ
ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ
ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا
در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ
شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر
چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ
مہر و اخلاص کا مقتل ہے جہاں بھی یارو
ہے وہیں قافلۂ عصرِ رواں بھی یارو
قریۂ جاں میں لگی آگ تماشا دیکھیں
پر اسی قریے میں ہے اپنا مکاں بھی یارو
بیعتِ پیرِ مغاں ہم بھی کریں گے اک دن
ہے کوئی جام پئے تشناں لباں بھی یارو
جیسے بھی بچ رہی تھی بچا لی، چلے گئے
دستار کو اٹھایا،۔ سنبھالی، چلے گئے
دن تھے اہم بہت کہ نمو پا رہا تھا میں
کِن موسموں میں باغ کے مالی چلے گئے
چہرہ تھا نیند میں بھی عجب روشنی بھرا
سو ہم بھی چھُو کے کان کی بالی، چلے گئے
شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی
حمیت کے کلیجے میں بڑے ناسور ہیں ساقی
ادھر غیرت کی خشکی ہے نہ گولر ہے نہ بیری ہے
مگر جس سمت چمچے ہیں ادھر انگور ہیں ساقی
تقرب ہائے افسر ہے نہ عیش مرغ و ماہی ہے
ابھی دفتر کے آنے پر بھی ہم مجبور ہیں ساقی
ہنسایا گر نہیں جاتا، رُلایا بھی نہیں جاتا
لِکھا ہر شعر محفل میں سُنایا بھی نہیں جاتا
محبت گر نہیں مجھ سے خُدارا چھوڑ دو لیکن
محبت میں یوں نظروں سے گِرایا بھی نہیں جاتا
مِرے چہرے کی وِیرانی کو پڑھنے کا ہُنر سِیکھو
کہ مجھ سے بارہا اب دل دِکھایا بھی نہیں جاتا
ہجر زدہ آنکھیں
محبت میں خوشی میں یہ
ہمیں اکثر رلاتی ہیں
کبھی یہ ہجر میں آنکھوں سے اک دریا بہاتی ہیں
غموں میں یہ کبھی کالی
گھٹائیں ساتھ لاتی ہے
کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر
زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر
ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں
بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر
کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے
نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر
وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے
مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے
وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں
وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے
میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ
وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے
کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں
یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں
نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو
یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں
ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی
ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں
دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری
دیوار میں در بنتا ہے دستک سے ہماری
بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل
اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری
ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا
اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری
فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں
ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں
میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل
خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں
اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت
تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں
ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی
ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی
آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے
آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی
کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں
اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی
تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں
ساتھ رہ کر نظر نہ آؤں کہیں
اور مت فاصلے بڑھا مجھ سے
میں تُجھے بھُول ہی نہ جاؤں کہیں
جانے کس موڑ پر ضرورت ہو
آ بھی جانا جو میں بلاؤں کہیں
گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی
ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی
دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا
اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی
اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا
اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی
ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے
مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے
وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں
جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے
مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ
سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے
اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو
آنکھوں کو میری اپنے لیے آئینہ کرو
وعدے وفا کیے نہ کبھی تم نے جانِ جاں
دل پھر بھی چاہتا ہے کہ وعدہ نیا کرو
رہ کر تمہارے پاس بھی رہتا ہوں میں کہاں
مِل جاؤں پھر سے تم کو بس اتنی دعا کرو
ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل
اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل
یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں
ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل
نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل
کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے
اب کسی اور کے ہونے سے رہے
آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر
آپ کے پاس کھلونے سے رہے
کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم
اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے
آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے
مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے
ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا
وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے
کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں
کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے
امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے
آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے
صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب
پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے
زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی
موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے
حُرمتِ عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں
بات بنتی نہ بنے بات سے جانے کا نہیں
یا خدا! خیر کہ ہم دونوں انا والے ہیں
وہ بلانے کا نہیں اور میں جانے کا نہیں
وحشتی ہوں سو گریبان کو آ سکتا ہوں
مجھ سے ڈرنے کا، مگر مجھ کو ڈرانے کا نہیں
آنکھیں
آنکھیں
خود بخود شرم سے
جھکنے لگیں
ہونٹ بات بے بات ہنسنے لگے
دراز زلفیں
شرارت پہ آمادہ ہونے لگیں
کیا مجھ بے نوا کے پاس
ایک دلِ درد مند لایا ہوں
خُمِ طیبہ سے جو بچ رہی تھی
شیشۂ دل میں بند لایا ہوں
ہمرہانِ رمیدہ خُو کے لیے
آنسوؤں کی کمند لایا ہوں
چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے
تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے
جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے
یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے
ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو
یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے
بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے
بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے
راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے
سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے
میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں
دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے
روشن ہی رہا دل بھی مِرا شعلۂ شک سے
پیغام رساں رات بھی اترا نہ فلک سے
کچھ لطف لیا جائے نہ ملنے کی کسک سے
زخموں کو ملے حرفِ تسلی بھی نمک سے
چپ چاپ گزر جاتی ہے اب رات یوں مجھ میں
جیسے میں گزر جاتا ہوں سنسان سڑک سے
کبھی جو شہرِ وفا میں جنوں کی بات چلے
ہمارے درد کا قصہ تمام رات چلے
نشاطِ جاں بھی نہیں شعلۂ نوا بھی نہیں
اٹھاؤ ساز کہ رقصِ غمِ حیات چلے
بہ صدا وقار پئیں زندگی کے پیمانے
بہ صد سرور غمِ زندگی کی بات چلے
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
یہ جو داتا ہے، بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تُو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کُوئے قاتل تو مِری راہگزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے تِرا حسنِ نظر ہے سائیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ آقاﷺ پہ جو رہنے کی اجازت مل جائے
مجھ گہنگار کو بخشش کی بشارت مل جائے
بن ہی جائے گا مِرا کام سرِ روزِ جزا
کوئی دن اور ندامت کی جو مہلت مل جائے
کچھ نہیں چاہیے تجھ سے مجھے اے عمرِ رواں
نعت کہنے کی کوئی روز سہولت مل جائے
جو آ رہی ہے بدن سے کمال کی خوشبو
مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو
اسی کے دم سے معطر ہے کاروان حیات
ہے میرے گھر میں جو اہل و عیال کی خوشبو
زباں پہ ہیں وہی کلمہ وہی ہے سوز مگر
کہاں سے لاؤں اذان بلال کی خوشبو
اپنی بیگم صاحبہ کے نام منظوم خط
میری بیوی اے مِرے دل کا سرور
میری عزت اور میرے گھر کا نور
اے میرے آرام و راحت کی جلیس
اے میرے وقتِ مصیبت کی انیس
تجھ کو بخشے ہیں خدا نے وہ صفات
تیرے دم سے رونق بزمِ حیات
شاعر نہیں بھولتے
ماں کا چہرہ اور پہلی محبت
ایک شام اور دو کرسیاں
پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ
ایک سفر اور کوئی بمسفر
سیاہ رنگ اور فیض
دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں
ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں
دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے
پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں
باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں
دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں
جنگ کس سے لڑوں؟
اس زمیں سے
جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے
اس سپاہی سے؟
جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا
صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج
احمدؐ نے احد آپ کو پایا شب معراج
جھگڑا جو ہوا عشق ابد حسن ازل میں
اک آن میں حضرت نے چکا یا شب معراج
حضرت ہی کی صورت کو گئی دیکھنے حضرت
حضرت ہی تھے حضرت کا تماشا شب معراج
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے
ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے
کسی پیماں شکن کے وعدوں پر
کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے
دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی
حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے
مصرعۂ طرح پر ایک غزل کے چند اشعار
"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"
میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے
ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے
قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب
حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے
دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ
یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے
درُونِ ذات ہوس کا اسِیر زندہ ہے
کمانِ دستِ زُلیخا میں تِیر زندہ ہے
زمانہ ساز مِری انجمن میں آتے ہیں
سرِ مزارِ جنُوں اک فقِیر زندہ ہے
نشان مِٹتے رہے آندھیوں کے موسم میں
تِرے غُبار سے کھینچی لکِیر زندہ ہے
افسوس مِرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا
میں روز بناتا ہوں وہ پیکر نہیں بنتا
دیوار و در و بام بنائے تو ہیں لیکن
دیوار و در و بام سے تو گھر نہیں بنتا
حالات بناتے ہیں اسے جیسا بنائیں
میں چاہتا ہوں جیسا یہ منظر نہیں بنتا
وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ
جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ
غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ
اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ
ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں
لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ
ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے
اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے
اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں
زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے
تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو
روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھی جو فضائے کوئے نبیؐ جنت کا ٹھکانہ بھُول گئے
سرکارﷺ کا روضہ یاد رہا، دنیا کا فسانہ بھول گئے
سرکار دو عالمؐ کے در پر جس وقت پڑی بے تاب نظر
آقاﷺ کی ثنا لب پر آئی ہر ایک ترانہ بھول گئے
جب پہنچے مواجہ پر ان کے اک کیف میں ایسا ڈوب گئے
جو حال سنانا تھا ان کو وہ حال سنانا بھول گئے
ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی
گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی
بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر
جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی
قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں
قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی
مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف
کھڑے ہوئے تھے سبھی دوست یار میری طرف
ہوائیں کھا گئیں ہیں طاقچوں میں رکھے دیے
بڑھا ہے آندھیوں کا اب حصار میری طرف
حضورِ یار میں نم جب فصیلِ چشم ہوئی
بڑھا وہ بن کے مِرا غمگسار میری طرف
وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں
اداسیاں مجھ کو دان کر کے
نئے سفر پر نکل گیا ہے
بچھڑ گیا ہے
میں اب ملوں گا اسے وہاں پر
جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش
آگ میں جو تپایا جاتا ہوں
زر خالص بنایا جاتا ہوں
قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے
کس طرف کو بہایا جاتا ہوں
بارش سنگ سرخ جاری ہے
میں مسلسل نہایا جاتا ہوں
یہ ضرورت عجیب لگتی ہے
مجھ کو عورت عجیب لگتی ہے
جب بھی بجھتے چراغ دیکھے ہیں
اپنی شہرت عجیب لگتی ہے
سرحدوں پر سروں کی فصلیں ہیں
یہ زراعت عجیب لگتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ظہور شان رسالت مآبؐ کیا کہنا
نمود حُسنِ حقیقت مآب کیا کہنا
تمہارا حُسن ہوا لا جواب کیا کہنا
تمہاری ذات ہوئی انتخاب کیا کہنا
فرشتے آتے ہیں در پر ادب سے سربسجود
وہ بارگاہِ الہیٰ جناب کیا کہنا
کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے
سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے
غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے
اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے
سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے
اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے
شکر ہے غیر کو پہچان گئے
آج وہ میرا کہا مان گئے
آپ کی سمت نہ تھا رُوئے سُخن
آپ بے وجہ بُرا مان گئے
آج رِندوں میں بھی ہے شوقِ بہشت
چال کس کی ہے یہ ہم جان گئے
ہنس دو پھر ایک بار غزل کہہ رہا ہوں میں
لوٹ آئی ہے بہار غزل کہہ رہا ہوں میں
لفظوں کو تیرے حُسن کہ صہبا میں ڈھال کر
اے جانِ صد بہار غزل کہہ رہا ہوں میں
ڈُوبا ہوا ہوں ساغرِ چشمِ سیاہ میں
ہر شے پہ ہے خُمار غزل کہہ رہا ہوں میں
کاسہ بدست وقت سے سودا نہ کر سکے
خُود کو زمانے کے لیے رُسوا نہ کر سکے
ہر لفظ عکسِ سوز تھا، ہر نظم مُبتلا
لیکن ہم اپنے درد کو افشا نہ کر سکے
اسمِ حیات دفن تھا شورِ عدم کے بیچ
ہم سے مگر فریب کو سادہ نہ کر سکے
محوِ جمالِ یار کو فُرصتِ بندگی نہیں
اُس کے حُضور بندگی کُفر ہے بندگی نہیں
عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں
کُفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جُھکی نہیں
وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب
بچھڑے زمانہ ہو گیا، درد میں کچھ کمی نہیں
لُطف و سجود ہو چکا کیف کہاں نماز میں
ہو گئی گُم نِگاہِ شوق جلوۂ کعبہ ساز میں
راہِ حرم سے بیخودی کھینچ ہی لائی سُوئے دیر
لے تو چلی تھی بے دِلی دام گہِ نیاز میں
پِھر وہی قلبِ عِشق میں ذوقِ کلیم جاگ اُٹھا
کوند رہی ہیں بِجلیاں چشمِ نظارہ باز میں
سلامتی کونسل
پھر چلے ہیں مرے زخموں کا مداوا کرنے
میرے غمخوار اُسی فتنہ گرِ دہر کے پاس
جس کی دہلیز پہ ٹپکی ہیں لہو کی بوندیں
جب بھی پہنچا ہے کوئی سوختہ جاں کشتۂ یاس
جس کے ایوانِ عدالت میں فروکش قاتل
بزم آرا و سخن گستر و فرخندہ لباس
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہوا دیدار ہے مجھ کو خدا کا
جو دیکھا میں نے چہرہ مصطفیٰؐ کا
پھریں کیوں کر نہ گرد مصطفیٰؐ ہم
یہی کعبہ ہے اربابِ صفا کا
خدا آئینۂ شان نبیﷺ ہے
نبیﷺ آئینہ ہے شانِ خدا کا
سزائے موت سے اب تک نجات پا نہ سکی
میں اس کے کوچے سے اٹھ کر کہیں بھی جا نہ سکی
🍁تمام عمر پھری مثلِ برگِ آوارہ🍀
💢مِرا نصیب کہ منزل قریب آ نہ سکی💢
غموں کے وار سے لب پہ لگے تھے یوں تالے
ہزار چاہ کہ بھی میں تو مسکرا نہ سکی
اک اضطرابِ شوق کا حالت ہے آج کل
گویا سکون ہی بڑی آفت ہے آج کل
آلامِ دو جہاں سے قرابت ہے آج کل
سب آپ کا کرم ہے عنایت ہے آج کل
اب صبح کیا بتاؤں شبِ غم کا ماجرا
جب تم کو بھُول جانے کی عادت ہے آج کل
چھپا کے روئے حسیں کو سیاہ بالوں میں
فریب دے گیا آ کر کوئی خیالوں میں
وفا کے ذکر چھڑا جب پری جمالوں میں
تو میرا نام بھی آیا کئی مثالوں میں
مٹانے والے مٹاتے رہے مجھے لیکن
غزل کے روپ میں زندہ رہا رسالوں میں
تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے
تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے
جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے
کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے
تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت
یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے
عشق کے ماروں کو درکار سفر
دو کناروں کا ہے بس یار سفر
سوچا اک دن یونہی اپنے بارے
یونہی لگنے لگا بے کار سفر
میں رُکا ہوں یوں دلِ خستہ میں اک
جیسے منزل پہ ہو درکار سفر
دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی
چلتا ہے میرے ساتھ ستارا کبھی کبھی
ایسا نہیں کہ زیرِ ستم ہی رہے سدا
یہ بوجھ ہم نے سر سے اتارا کبھی کبھی
فرطِ نشاطِ وصل کی خاطر ہی جانِ جاں
کرتے ہیں تیرا ہجر گوارا کبھی کبھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
واہ کیا ذات مصطفائیؐ ہے
مرکزِ نُورِ کبریائی ہے
مصطفیٰﷺ آئینہ ہے آئینہ
جس میں خالق کی رونمائی ہے
تیرے کوچہ میں تاج والوں کو
یا نبیﷺ حسرت گدائی ہے
شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ
لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ
گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ
بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ
جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق
جنت میں کِردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ
مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے
نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے
نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں
فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے
میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں
بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے
قومی یکجہتی
آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے
بجھ گئے ہیں جو دِیے ان کو جلایا جائے
پیار کے نقش کو تابندہ بنایا جائے
دیش سے فرقہ پرستی کو مٹایا جائے
جس کے دامن میں مہکتے تھے اصولوں کے گلاب
دوستو! پھر وہی ماحول بنایا جائے
ہم ہوئے حق کے اگر خوگر، تماشا ہو گئے
پتھروں میں آئینہ بن کر تماشا ہو گئے
تیرگی میں دور تک پھیلی ہوئی ہے ایسی روشنی
بستیوں میں میرے جلتے گھر تماشا ہو گئے
ہو گئے حیران سب ہی دیکھ کر میری اڑان
شاہ بازوں میں مرے شہپر تماشا ہو گئے
رہتا ہے جان عرش پہ تن ہے یہاں مِرا
پایا میں لا مکاں سے پرے ہے مکاں مرا
حق مجھ میں آئینہ ہے میں ہوں حق کا آئینہ
شانِ صفا ہے حال نہاں و عیاں مرا
رہتا ہوں چشمِ اہلِ بصر کی نگاہ میں
ملتا ہے نکتہ داں کے سخن میں نشاں مرا
تیرا من بھی سوتا ہے
تو بھی جیون کھوتا ہے
من کی اُور دھیان نہیں
تن گنگا میں دھوتا ہے
کرشن بچارا سوکھے منہ
گوالا زہر بلوتا ہے
یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو
بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو
ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو
روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو
ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں
شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو
ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے
یہ گردشِ مے گردشِ دوراں تو نہیں ہے
گلشن میں کہیں جشنِ بہاراں تو نہیں ہے
گل چاک گریباں سہی خنداں تو نہیں ہے
اے چارہ گرو! چارہ گری کھیل نہ سمجھو
یہ چاکِ جگر، چاکِ گریباں تو نہیں ہے
تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ
سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ
روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر
اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ
دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا
کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ
حدِ نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں
صحرا کی گرد ہم نے اُڑانی تو ہے نہیں
چلتا نہیں ہے اس پہ ہمارا کچھ اختیار
یہ زندگی ہے کوئی کہانی تو ہے نہیں
کیوں دیکھ بھال اِس کی کریں ہم تمام عمر
یہ زخم کوئی اس کی نشانی تو ہے نہیں
کوئی مقتول جفا ہو جیسے
یعنی تصویر وفا ہو جیسے
بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس
کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے
کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ
درد خود اپنی دوا ہو جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکارﷺ کی چوکھٹ
"دلِ مضطر کی ہے راحت مرے سرکار کی چوکھٹ"
اگرچہ ہے زمیں پر، اس کا ہے لیکن مقام اعلیٰ
رکھے ہے عرش کی رفعت مِرے سرکار کی چوکھٹ
اجالا فرش پر جس سے ہے طلعت عرش پر جس سے
دو عالم کی تو ہے زینت مرے سرکار کی چوکھٹ
کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے
کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے
جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک
وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے
ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو
ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے
اشک لہجے میں چھلک کر جو دعا کرتے ہیں
ان کی تکریم سدا،۔ بابِ رسا کرتے ہیں
کوئی محفل نہیں قندیلِ نوا سے روشن
یوں تو صحرا میں بگولے بھی صدا کرتے ہیں
ہے نگارانِ ستم سے مجھے نسبت ایسی
زخم خوشرنگ مِرے تن کی قبا کرتے ہیں
اے محبت! عجیب چیز ہے تُو
جان و دل سے سوا عزیز ہے تو
تیری بیتابیاں ہیں رشک سکوں
غیرت صد خِرد ہے تیرا جنوں
تجھ سے لذت ہے اشک باری میں
تجھ سے راحت ہے آہ و زاری میں
میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے
راستہ بھول گئی بادِ بہاری کیسے؟
تیشہ بردوش بہت ہیں کوئی فرہاد نہیں
جوئے شیر آج پہاڑوں سے ہو جاری کیسے
قاتلوں سے مِرے سرکار کی یاری کیسے
نیم وحشی ہے اگر صنفِ غزل جب یارو
گِرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں
ہم اس وارفتگی کو ذوق سے بیگانہ کہتے ہیں
بیاں کب کوئی اپنے عشق کی روداد کرتا ہے
مگر ہم اپنا قصّہ آج بے تابانہ کہتے ہیں
نہیں واقف کہ یہ گنجینۂ غم ہائے الفت ہے
مِرے مسکن کو میرے ہمنشیں ویرانہ کہتے ہیں
وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں
ہم کہاں تک ٹوٹتے رشتوں سے وابستہ رہیں
آپ دہراتے رہیں سچی کتابوں کا کہا
اور لکیریں ان گنت چہروں سے وابستہ رہیں
رات دن جن کے لبوں پر روح کا پرچا رہے
ان کے دل میں ہے نئے جسموں سے وابستہ رہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھیے
ہر طرف نورﷺ جلوہ نما دیکھیے
طٰہٰ، یٰسین اور خاتم الانیباءﷺ
رب نے کیا کیا لقب ہے دیا دیکھیے
کیا بیاں ہو بھلا عظمت مصطفیٰﷺ
مدح کرتا ہے خود کِبریا دیکھیے
کیسے اترے گا خمار آنکھوں کا
راس مجھ کو ہے حصار آنکھوں کا
تیرے چہرے کو جو دیکھے، کِھل جائے
جو بھی بیمار ہے یار آنکھوں کا
میرے ہونٹوں پہ ہے بات آنکھوں کی
میرے شعروں میں شمار آنکھوں کا
مٹی لذتِ داستاں کیا بتائیں
کہاں لڑکھڑائی زباں کیا بتائیں
محبت کی راہیں، ارے توبہ توبہ
بہر گام سو امتحاں کیا بتائیں
غمِ ہجر کی تلخیوں کو نہ پوچھو
غمِ ہجر کی تلخیاں کیا بتائیں
زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں
لبوں پر نہیں ہیں یہ چاہت کی باتیں
تمہیں کچھ ضرورت نہیں بولنے کی
سنو کربلا کی مودت کی باتیں
کتابوں میں ایسی حقیقت کہاں ہے
جہاں میں ہیں رائج کدورت کی باتیں
تنہا گزارتا ہوں اپنے گھر میں روز شپ
میرے لیے مرا گھر زنداں نہیں ہوا
اے دوست اِس بےحد جدید دور میں
لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا
شیخ کو دھاندلی والے شاہ کی پڑی
گاؤں میں کوئی بھی حیراں نہیں ہوا
خلش
تیری یہ بے رخی
اب نہ سہ پاؤں گی
ہے گِلہ گر کوئی
تو بتا دے ذرا
موڑ کر منہ نہ بول
بے رخی سے تِری
گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے
ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے
بیباکئ تحریر یہ دستورِ خدا وند
اک روز مِرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے
اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن
یہ جرم تِرے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے
راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے
تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے
شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا
شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے
ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا
سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے
گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا
لاہور
آ شہر پرانے چلتے ہیں
یہاں رات کو جگنو ہوتے تھے
یہاں میلے ٹھیلے رنگ برنگ
یہاں تارے راہ سُجاتے تھے
یہاں رستہ پوچھنے والوں کو
منزل تک جان پہنچاتے تھے
بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے
بھیگی ہوئی پلکیں ہیں بھیگا ہوا داماں ہے
الفت ہی زمانے میں تسکین کا درماں ہے
اک لفظ محبت ہی ہر درد کا درماں ہے
یہ زیست خدا جانے کس بات پہ نازاں ہے
مٹی کے گھروندے میں کچھ دیر کی مہماں ہے
کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی
ہیں پریشاں حیات کے گیسو
نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی
مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا
آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی
اپنی جگہ پہ حسن کمالاتِ دید کا
لطف آ گیا ہے آپ سے گفت و شنید کا
پاؤں میں گھنگرو باندھ کے رقصاں بروئے یار
انعام پا رہا ہوں میں یوم سعید کا
آتے ہیں یار دعوتِ بزمِ شیراز میں
کب دیکھتے ہیں فرق قریب و بعید کا
اے خدا حسرت و جذبات کے مارے ہوئے لوگ
اب کہاں جائیں یہ حالات کے مارے ہوئے لوگ
تیری دنیا کی کہانی بھی عجب ہے مولا
در بدر رہتے ہیں حق بات کے مارے ہوئے لوگ
صبحِ نو کے لیے زنبیل طلب لائے ہیں
دشتِ ویراں میں سیہ رات کے مارے ہوئے لوگ
جو تِرے جسم کو چکھ لے وہ جواں ہے، ہاں ہے
جسے تُو مل نہ سکا نوحہ کناں ہے، ہاں ہے
ایک میں ہوں کہ جسے بس تو میسّر ہی نہیں
ورنہ اک دنیا مِری سمت رواں ہے ہاں ہے
وحشتِ شب نے کہا، ہے بھی عزادار کوئی
ہجر سے آنکھ مِری گریہ کناں ہے، ہاں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذات نبیﷺ سے عشق، اشارہ علیؑ کا ہے
سمجھا ہے جس نے رمز وہ پیارا علی کا ہے
مایوس اس کو کیسے کرے رب ذوالجلال
جس کو رہے خیال سہارا علی کا ہے
جس دن سے بو تراب لقب آپ کو ملا
یہ خاکساری فعل ہمارا علی کا ہے
کر کے جفا بدلے میں وفا مانگنے لگا
خوب ظرف تھا برگشتہ صِلہ مانگنے لگا
جب سے عزیز ہوئی اُسے میری زندگی
تب سے موت کی دُعا میں مانگنے لگا
کچھ وقت ہی تو گُزرا غُنچہ کِھلے ہوئے
باغیچہ بے سبب موسمِ خزاں مانگنے لگا
اس کی جفا میں ہوں میں، نہ میری وفا میں وہ
لیکن ہنوز بن کے خلش ہے دُعا میں وہ
اچھا ہوا کہ ٹُوٹ کے میں ہی بکھر گیا
آنے لگا تھا مجھ کو نظر آئینہ میں وہ
محدود تو نہیں ہے سلیماں کی دسترس
رہتا ہے تو رہے ابھی شہرِ سبا میں وہ
کسی کے دُکھ سے نہ کر سُکھ کشید توبہ کر
ابھر نہ وقت کا بن کر یزید، توبہ کر
فصیلِ ذات سے باہر نکل کہ یہ دُنیا
تِرے بھرم سے ہے مطلق بعید، توبہ کر
نِگاہِ شوق کو جلوے سے یوں نہ رکھ محروم
ہے شرک جرأتِ انکارِ دِید توبہ کر
تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا
کشتی کے ڈوبنے کا بھی منظر عجیب تھا
سوچا تھا جیت لوں گا محبت کی قربتیں
لیکن کہاں میں اِتنا بڑا خوش نصیب تھا
آیا تیری گلی میں تو جنت میں آ گیا
نکلا تو یوں لگا کہ جہنم نصیب تھا
چلو پھر سے
ماضی کے سفر پر چلیں ہم
حال میں ہیں صرف غم ہی غم
صبح بے نُور ہے
شام مجبُور ہے
مسرتیں کھو گئیں کہیں
آپ کا نامۂ والا پہنچا
رنج میں عیش دوبالا پہنچا
گھونٹ پیاسے کے گلے سے اترا
منہ میں بھوکے کے نوالا پہنچا
نوک دم بھاگیں نہ کیوں کر افکار
ترکتازوں کا رسالا پہنچا
اک جنگل میں سرِ شام سُنایا جاؤں
گِیت بن کے تِری آواز میں گایا جاؤں
رات کی طرح سمندر پہ بچھایا جاؤں
شہر کو دن کی طرح روز سنایا جاؤں
ہر مسافت کے اُفق تک میں بلایا جاؤں
پھر اسی راہ سے واپس تو نہ لایا جاؤں
بغیر مطلب کے مہربانی نہیں چلے گی
غریب لوگوں میں بد گمانی نہیں چلے گی
یہاں پہ کوئی وفا کی باتیں نہیں کرے گا
ہماری محفل میں بد زبانی نہیں چلے گی
اب اپنے لہجے میں شعر کہنے پڑیں گے سب کو
پرائے لہجوں کی ترجمانی نہیں چلے گی
صاحبِ جام و سبو اہل کرم آتے ہیں
ہم سے دیوانے مگر دہر میں کم آتے ہیں
کیا سبب ہے کہ تِری بزم میں اے جان حیات
جب بھی آتے ہیں مِرے حصے میں غم آتے ہیں
اب نہ زخموں کی ضرورت ہے نہ مرہم کی تلاش
یہ مراحل بھی رہِ عشق میں کم آتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شعورِ نعت کے اتنے قریب لے آیا
رہِ نجات کے اتنے قریب لے آیا
ہزار جان سے صدقے میں اس گناہ کے جو
خدا کی ذات کے اتنے قریب لے آیا
وہی خدا مجھے لائے گا منقبت کی طرف
جو غزلیات کے اتنے قریب لے آیا
لایا تھا تِری بزم میں ہمراہ خودی کو
کیا جانے اسے رکھ کے کہاں بھول گیا ہوں
قدموں سے لپٹ کر ترے روتا تو سہی میں
اے دوست مگر طرز فغاں بھول گیا ہوں
وحشت میں کئی بار جبیں جھک گئی لیکن
کیا جانے کیا سجدہ کہاں؟ بھول گیا ہوں
کٹی ہے عُمر یہاں ایک گھر بنانے میں
حیا نہ آئی تمہیں بستیاں جلانے میں
بنا دیا تھا جہاں کو خُدا نے کُن کہہ کر
کروڑوں سال لگے ہیں اسے بسانے میں
فریب دے کے تمہیں کیا سکون ملتا ہے
ہمیں تو لُطف ملا ہے فریب کھانے میں
اس کا بدن ہے دھوپ سے اور دل گھٹاؤں سے
ایسے خمیر اٹھتا ہے دو انتہاؤں سے
جو زعم عشق لے کے چلے ہیں حضور حسن
میری طرف سے تعزیت ان سب کی ماؤں سے
وہ دیویاں بھی رونق بازار ہو گئیں
اپنی نگاہ اٹھتی نہ تھی جن کے پاؤں سے
ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں
پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں
تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں
دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں
ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم
آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں
فریاد کہ وہ شوخ ستمگار نہ آیا
مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا
میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں
وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا
چھٹ آہ پچھے کون مِرے درد کا احوال
مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا
وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں
کمال یہ ہے کہ اس سے بچھڑ کے روئے نہیں
وہ جن کے بیج سدا زخم زخم فصلیں دیں
ہماری آنکھوں میں وہ ایسے خواب بوئے نہیں
اسے کہو کہ اسے ڈھونڈنے نہ نکلیں گے
سو اتنا ذہن میں رکھیے کہ ہم کو کھوئے نہیں
اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے
بس حوالے نئے ہیں پیار پرانا ہی ہے
روز گھڑیال میں تاریخ بدل جاتی ہے
صبح کی میز پہ اخبار پرانا ہی ہے
رنگ موسم کے تغیر سے اڑا چہرے کا
دل مرے جسم میں سرکار پرانا ہی ہے
تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ
بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ
تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار
خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ
لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر
بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ
کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے
پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے
مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم
سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے
وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ
وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بتائیں کیا کہ ہمیں کیا ملا مدینے سے
خدا گواہ، ملا خود خدا مدینے سے
نگاہ ناز سے پایا جوازِ ہست و وجود
مِری ہے ہستی کا ہر سلسلہ مدینے سے
درِ کریم سے وابستگی ہے روحوں کی
ہمیں جو عشق ہے، بے انتہا مدینے سے
آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے
زندگانی تِرے پیغام سے ڈر لگتا ہے
پھر کسی جذبۂ گُمنام سے ڈر لگتا ہے
حُسنِ معصوم پہ الزام سے ڈر لگتا ہے
شیشۂ دل پہ کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے
تلخیٔ مے سے نہیں جام سے ڈر لگتا ہے
بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
کردیا کتنوں کو شہرت یافتہ
ہم رہے گمنام کے گمنام سے
ہے تو اک شمع میرے بھی روبرو
ڈر رہا ہوں عشق کے انجام سے
نفسِ امارہ کے جب بھی پر کُھلے
آرزوؤں کے ہزاروں در کھلے
جاگتی آنکھوں کے جب منظر کھلے
کربِ ہجرت سے کئی خنجر کھلے
جذبۂ جہد و عمل زندہ رہے
منزلوں کے لاکھ بحر و بر کھلے
آنکھوں میں کوئی خواب کی لرزش نہیں رہی
دل پر بھی اب وہ پہلی سی جنبش نہیں رہی
اب تو عدو سے بھی کوئی رنجش نہیں رہی
اپنی زباں پہ تالے کی خواہش نہیں رہی
ٹُوٹا ہے جب سے تارِِ نفس عشق کا مِرے
دل میں کسی کی یاد کی جُنبش نہیں رہی
ایک گزارش
شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کو
گزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کو
بنے سرمایہ ہیں وہ زندگی کا پیار سے رکھنا
خدا را یادیں مت لینا
یہی یادیں ہیں لے جائیں گی ہم کو آخری دم تک
فسانہ غم کا رُسوائے جہاں ہوتا تو کیا ہوتا
محبت میں ہر اک آنسو زباں ہوتا تو کیا ہوتا
ارے او میرے ہونٹوں کا تبسّم دیکھنے والے
تجھے اندازۂ ضبطِ فُغاں ہوتا تو کیا ہوتا
زہے قسمت کہ اب بھی فرقِ حُسن و عشق باقی ہے
یہاں جو حال ہے دل کا وہاں ہوتا تو کیا ہوتا
بیچ دلوں میں اترا تو ہے
درد تِرا البیلا تو ہے
رُوپ تِرا اے راجکماری
جیسے میری رچنا تو ہے
چاند کو تم آواز تو دے لو
ایک مسافر تنہا تو ہے
دئیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ
ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ
کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی
عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ
ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا
نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ
شامل کارواں نہ تھا راہ گزار تھا عجب
راہ میں بھی غبار تھا سر پہ بار تھا عجب
پیشِ نظر کھڑی رہی منزلِ جستجو مگر
ہاتھ میں بھی سکت نہ تھی پاؤں میں خار تھا عجب
ہار جو دوسروں کے تھے سانپ کی مثل تو نہ تھے
تم نے مِرے گلے میں جو ڈالا وہ ہار تھا عجب
بڑھ گئیں گستاخیاں میری سزا کے ساتھ ساتھ
پیار آتا ہے تِری جور و جفا کے ساتھ ساتھ
ضعف سے راہِ محبت میں قدم اٹھتے نہیں
پاؤں جمتے ہیں زمیں پر نقشِ پا کے ساتھ ساتھ
چھُوٹ کر کنجِ قفس سے نکہتِ گل کی طرح
ہم بھی اُڑ کر جائیں گے بادِ صبا کے ساتھ ساتھ
دل تڑپ کر بہل گیا شاید
شوق پھر سے مچل گیا شاید
کیوں دریچے پکارتے ہیں مجھے
پھر سے موسم بدل گیا شاید
ہوش انگڑائی لے کے جاگ اٹھا
وصل کا چاند ڈھل گیا شاید
دے کے خود خون کا منظر مجھ کو
آج کہتا ہے وہ خنجر مجھ کو
کب رہا کوئی ٹھکانہ اپنا
اب کے ڈھونڈو مِرے اندر مجھ کو
دیکھ کر میرا شکستہ ہونا
کہتا ہے پِیر سکندر مجھ کو
مِری آنکھوں کا اس سے رابطہ ہے
جسے دیکھے ہوئے عرصہ ہوا ہے
سبب میں جانتا ہوں آنسوؤں کا
تمہاری آنکھ میں تِنکا گِرا ہے
ہمارے ساتھ کیوں تم جاگتے ہو
ہمیں تو جاگنے کا عارضہ ہے
رنج، غُصہ، گِلہ تھا، میرا تھا
جو بھی اس شخص کا تھا میرا تھا
تجھ کو کیا لینا دینا ہے واعظ
وہ صنم تھا خُدا تھا میرا تھا
اس کا تھا جو لُٹا دیا اس نے
اس میں جو کچھ بچا تھا میرا تھا
آوارگیٔ شوق
کیا بتاؤں تجھے
اک دن
میرا آوارہ سفر
جب تیرے شہر سے گذرا تو
تیری یادوں نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں
سرکار میرے قلب پہ نوری نگہ کریں
ہر وقت محوِ عشقِ محمدﷺ رہا کریں
قُربِ حضورؐ چاہیے، جنت کا کیا کریں
مولا علیؑ، حسینؑ، حسنؑ، فاطمہ بتولؑ
یارب یہ میرے دل پہ حکومت سدا کریں
چلی ہے نسیمِ سحر دِھیرے دِھیرے
گُلوں پر کرے گی اثر دھیرے دھیرے
تمہاری محبت میں ہم مر مِٹیں گے
مگر تم کو ہو گی خبر دھیرے دھیرے
ابھی شادماں ہو میری زندگی پر
بہاؤ گے آنسو مگر دھیرے دھیرے
کچھ ایسے تیر نظر کی کمان سے نکلے
ہم اپنی لاش اٹھائے جہاں سے نکلے
تلاش کرنے سے یارو خدا بھی ملتا ہے
بس اتنا سوچ کے ہم بھی مکان سے نکلے
شعور و فکر کے ساگر کھنگالنے والو
وفا کے موتی تو عصمت کی کان سے نکلے
خطا معاف
سِتم کا ابر محوِ رقص سر پر
ہر اک سو شعلۂ نمرود بھی ہے
سِنان بردار ہیں وحشی قبیلے
فضا میں آکسیجن گھٹ رہی ہے
گھٹی جاتی ہیں سانسیں رفتہ رفتہ
ضد نہ کر سلسلے بڑھانے کی
مجھ کو عادت ہے بھول جانے کی
کس نے مجھ کو وصیتیں بخشیں
آندھیوں میں دیے جلانے کی
چاندنی سے لپٹ کے بَین کرے
ماتمی شب مِرے گھرانے کی
غم میں ڈوبا ہوا اتوار جو ٹھہرا میں
کیا کروں ایک اداکار جو ٹھہرا میں
نظر پڑتے ہی وہ برہم سے نظر آتے ہیں
ان کا بھولا ہوا پیار جو ٹھہرا میں
اب سمجھ آیا مجھے کوئی مناتا کیونکر
ایک اجڑا ہوا تہوار جو ٹھہرا میں
ہمیں پتا بھی نہیں کس کی وہ کہانی تھی
وہ اس قدر تھی نئی کہ بہت پرانی تھی
کبھی جو دیکھ لیا اس کو دیکھتے ہی رہے
وہ اپنے آپ میں ٹھہری ہوئی روانی تھی
تمہاری یاد کا رکھا ہے کینوس ورنہ
ہمارے خواب نے صورت نئی بنانی تھی
اکثر تِری نگاہ بھی انجان سی رہی
اُلفت کی زندگی تو عجب زندگی رہی
مقصُود تھا بہار پہ اک طنز اس لیے
کچھ دیر تک گُلوں کے لبوں پر ہنسی رہی
جب تک تمہارے لُطف و کرم کا یقین تھا
آلامِ روزگار میں بھی دل کشی رہی
میں نے گِلہ، مُطالبہ، فریاد سب کِیا
اس کو مگر جو کرنا نہ تھا اس نے کب کیا
بزمِ تصوّرات میں ان کو طلب کیا
میں نے یہ اہتمام تو جب چاہا تب کیا
چھوڑا کبھی نہ دامنِ اخلاق ہاتھ سے
دُشمن بھی گھر پہ آیا تو ہم نے ادب کیا
بوسیدہ خدشات کا ملبہ دُور کہیں دفناؤ
جسموں کی اس شہر پنہ میں تازہ شہر بساؤ
سارے جسم کا ریشہ ریشہ سوچ کی قوت پائے
پھر ہر سانس کا حاصل چاہے صدیوں پر پھیلاؤ
اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلو
بدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ
رنگ بے رنگ ہوئے دِید کے معیار گِرے
کھا کے ٹھوکر نہ کہیں گرمئ بازار گرے
آبلہ پائی! بتا اب تُو کِدھر جائے گی؟
دُھوپ کو ضد ہے کہ وہ بھی تہِ دیوار گرے
پیار کے نام پہ بستی میں صدا دی، لیکن
سارے دروازوں سے کشکول میں انکار گرے
جس طرح وقت کی سرحد کا کنارا ہی نہ ہو
دن اسی طور گزارا کہ گزارا ہی نہ ہو
ترکِ الفت کو زمانہ ہوا لیکن اب تک
ایسا لگتا ہے تجھے دل سے اتارا ہی نہ ہو
چپ رہے تو تو لگے جیسے پکارا ہے مجھے
جب پکارے تو لگے جیسے پکارا ہی نہ ہو
علی عارف وہ جب دل تک رسائی دے رہا تھا
تو اُس کی آنکھ میں کیا کیا دکھائی دے رہا تھا
کہیں ٹھہرے ہوئے پانی نے مہکایا فضا کو
کہیں پر وہ رواں تھا، اور کائی دے رہا تھا
ذرا سا مُسکرا کے وقت نے آواز کیا دی
دلِ خُوش فہم یہ سمجھا، خُدائی دے رہا تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ماہ مبین و خوش ادا صلِ علٰی محمدﷺ
پردۂ کُن کے مہ لقا صلِ علٰیِ محمدﷺ
شاخِ نہالِ آرزو پھُولے پھلے گی چار سُو
دل سے نکلتی ہے صدا صلِ علٰی محمدﷺ
اس کی بلائیں رد ہوئیں اس کے گُناہ دُھل گئے
جس نے یہ صِدقِ دل پڑھا صلِ علٰی محمدﷺ
بر مرگِ ہمایوں مرزا
موت نے کر دیا برباد مجھے اے لوگو
میرے گھر کو میرے در کو یہ میرے جینے کو
ہائے کل مجھ سے جو ہنس ہنس کے گلے ملتے تھے
آج وہ چھوڑ گئے مجھ کو فقط رونے کو
ہائے کس سے میں کروں جا کے تمہارا شِکوہ
مجھ کو تم چھوڑ گئے جلنے کو انصاف کرو
ہجر کے درد نے مِٹا ڈالا
مجھ کو اک فرد نے مٹا ڈالا
کچھ مجھے بے نِشاں کیا اس نے
کچھ دل زرد نے مٹا ڈالا
میں نشانِ سفر تھا اور مجھے
راہ کی گرد نے مٹا ڈالا
ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے
جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے
یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں
پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو
ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے
جاتے جاتے اس قدر احسان مجھ پر کر گیا
وہ مِری ان خشک آنکھوں کو سمندر کر گیا
جس کو صدیاں لگ گئیں آباد کرنے میں مجھے
پل میں وہ برباد ہر اک اس کا منظر کر گیا
میری اس صحرا نوردی کا سبب اک یہ بھی ہے
میرے ہر اخلاص کو ٹھکرا کے بے گھر کر گیا
جب درد کے ماروں سے تقدیر الجھتی ہے
ہر حرفِ دعا سے پھر تاثیر الجھتی ہے
یہ حکم ستمگر کا ہے؛ تیز چلیں لیکن
بے جرم اسیروں سے زنجیر الجھتی ہے
کیوں ہم پہ ہی جینے کا ہر باب مقفل
تدبیر کریں بھی تو تقدیر الجھتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیا صاحب جمال بنائے گئے ہیں آپﷺ
یعنی کہ بے مثال بنائے گئے ہیں آپﷺ
ہے ختم ہر کمال فقط آپ پر حضورﷺ
سر تا بہ کمال بنائے گئے ہیں آپﷺ
کس کو سنائیں کس سے کہیں حالِ درد و غم
سنیں کو عرض حال بتائے گئے ہیں آپﷺ
بستر کی ہر شکن پہ ہوا کا غلاف تھا
ورنہ مِرا وجود تو پہلے ہی صاف تھا
تجھ بن ہمارے پاؤں کو رستہ نہ مل سکا
پانی تو اس ندی کا بڑا پاک صاف تھا
شیشے بہ فیضِ تشنہ لبی ٹوٹتے رہے
رِندوں کا میکدے سے عجب انحراف تھا
خُواہشیں جب کُوئے جاناں کی ہوا کھانے لگیں
عنبریں زُلفوں کے پیچ و خم سے چکرانے لگیں
دل پہ پھر مدہوشیاں طاری ہوئیں جذبات کی
خُوشبوئیں احساس کی دہلیز تک آنے لگیں
عکسِ جاناں ذہن سے سرگوشیاں کرنے لگا
جب بہاریں گُلشنِ ہستی کو مہکانے لگیں
جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے سرِ آب رواں
سبز مٹی ہے جزیرہ ہے سر آب رواں
صفِ افراد ہے دریا کے کنارے پہ کھڑی
اور امامت کا مصلہ ہے سر آب رواں
ایک صندوق ہے، صندوق پہ ہے نقشِ قدیم
اس کے ہمراہ عریضہ ہے سر آب رواں
بادلوں کے بیچ تھا میں بے سر و ساماں نہ تھا
تشنگی کا زہر پی لینا کوئی آساں نہ تھا
کیا قیامت خیز تھا دریا میں موجوں کا ہجوم
ساحلوں تک آتے آتے پھر کہیں طوفاں نہ تھا
جانے کتنی دور اس کی لہر مجھ کو لے گئی
میں سمجھتا تھا کہ وہ دریائے بے پایاں نہ تھا
بیٹھے ہوئے ہیں دشت میں قسمت سے ہار کے
پھینکا ہے بن میں جن کو مقدر نے مار کے
دیتے ہیں مفت کے تو سبھی مشورے مگر
آتا نہیں یے کام کوئی یار، یار کے
اُمید اُن سے دل نے لگائی ہے خیر کی
وعدے نبھائے جا نہ سکے جن سے پیار کے
جسے ٹھکرا دیا اور نذر کے قابل نہیں سمجھا
وہ میرا دل تھا لیکن تم نے اس کو دل نہیں سمجھا
رہِ عشق و وفا میں یوں چلا ہوں بے نیازانہ
کہ منزل بھی اگر آئی تو میں منزل نہیں سمجھا
وہ کیا پہنچے گا دریائے محبت کے کنارے پر
کہ جس نے موج کی آغوش میں ساحل نہیں سمجھا
لمحوں میں بھلا دی ہے شناسائی، محبت
کیا اب ہمیں اس موڑ پہ لے آئی محبت؟
سورج کی طرح دل پہ عیاں جلوۂ جاناں
بادل کی طرح آنکھوں نے برسائی محبت
کیوں آج خسارے پہ تِرے اشک بہے ہیں؟
لگتا ہے کسی نے نہیں سمجھائی محبت
لطیف طرز سخن کا دے آبشار مجھے
کمال ندرت تخیل سے سنوار مجھے
ادب کی راہ میں تجدید کے کھلیں غنچے
عطا ہو نظم گلستان کا اختیار مجھے
ہے آسمان تخیّل پہ فکر کا طائر
عروج فن میری دہلیز پر اتار مجھے
علم و فن کے رازِ سربستہ کو وا کرتا ہوا
وہ مجھے جب بھی ملا ہے ترجمہ کرتا ہوا
صرف احساس ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں
اور ایسا بھی مگر وہ بارہا کرتا ہوا
جانے کن حیرانیوں میں ہے کہ اک مدت سے وہ
آئینہ در آئینہ در آئینہ کرتا ہوا
غلط کہنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی
کہ مجھ سے تو شکایت بھی نہیں ہوتی
تمہارے بن کہیں دل بھی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت بھی نہیں ہوتی
مصیبت میں تو آتا ہے پلٹ اکثر
مگر تب تک ضرورت بھی نہیں ہوتی
سزائے موت نہ دل کو رہائی دیتا ہے
جو اُس کا ہو وہ مسلسل دہائی دیتا ہے
میں سات دن ہی رہا ہوں مگر بہت خوش ہوں
کسی کسی کو وہ دل تک رسائی دیتا ہے
جسے خدا نہیں دِکھتا وہ تم سے آ کے ملے
تمہاری آنکھ سے وہ بھی دکھائی دیتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے
جیسے فردوس پہ فردوس اتر آئی ہے
پاؤں چُھو جائے تو پتھر کا جگر موم کرے
ہاتھ لگ جائے تو شرمندہ مسیحائی ہے
جانے کیوں عرش کی قندیل بُجھی جاتی ہے
ان کے جلوؤں میں نظر جب سے نہا آئی ہے
دعا
جاناں
میں یہ دعا کرتا ہوں
تیری آنکھوں کا کاجل
کبھی نہ بہنے پائے
موتیے کے جو پھول ترے بالوں میں ہیں
کبھی نہ ٹوٹ کر بکھریں
ستم گروں کو تو اچھا بُرا نہیں دِکھتا
سیاہ شب میں کوئی آئینہ نہیں دکھتا
زر و جمال کے پردے پڑے ہیں آنکھوں پر
یہی سبب ہے، کوئی معجزہ نہیں دکھتا
ضروری تو نہیں وہ واقعہ ہوا ہی نہ ہو
ہماری آنکھ کو جو واقعہ نہیں دکھتا
جو میں نے کہہ دیا اس سے مُکرنے والا نہیں
کہ آسمان زمیں پر اترنے والا نہیں
میں ریزہ ریزہ ہوں لیکن نمی ابھی تک ہے
ہوائیں لاکھ چلیں میں بکھرنے والا نہیں
میں جانتا ہوں وہ اچھے دنوں کا ساتھی ہے
بُرے دنوں میں ادھر سے گُزرنے والا نہیں
منزلِ عشق پہ بے خوف و خطر جاؤں گا
راہ دُشوار سہی، پھر بھی گزر جاؤں گا
پی چکا ہوں میں بہت، نہ اور پلا ساقی
حد سے زیادہ جو پلائی تو بکھر جاؤں گا
دور ہو مجھ سے بہت منزلیں دشوار سہی
تجھ کو پانے کے لیے شمس و قمر جاؤں گا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جس سے تم روٹھو وہ برگشتۂ دنیا ہو جائے
تم جسے چاہو وہ قطرہ ہو تو دریا ہو جائے
ان کی دہلیز پہ رکھ دوں تو جبیں پھر نہ اٹھے
عالمِ شوق میں ایسا کوئی سجدہ ہو جائے
قہر سے دیکھو تو شاداب چمن جل جائے
مسکرا دو تو مِری خاک بھی زندہ ہو جائے
بے گانگی میں یوں ہی گزارا کریں گے ہم
بے چین ہوں تو خود کو پکارا کریں گے ہم
آبادیوں کے حزن میں صحرا کے شہر میں
بستی نئی بسا کے نظارا کریں گے ہم
اپنے دکھوں کو ان کی خوشی میں چھپائیں گے
ان کی ہنسی کی بھینٹ اتارا کریں گے ہم
دوستی میں دل جو ٹوٹا دشمنی اچھی لگی
روشنی میں لٹ گئے تو تیرگی اچھی لگی
دیکھ کر اونچے مکانوں میں امیروں کے چلن
ہم کو اپنی جھونپڑی میں مفلسی اچھی لگی
زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر
حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی
اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں
قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں
بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں
مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں
وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی
آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں
نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے
امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے
نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر
تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے
مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ
مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے
مجھے ٹالنے کی خاطر تجھے چاہیے بہانہ
تجھے کب روا تھا مجھ سے یہ سلوک عامیانہ
تِری ہر ادا انوکھی مِرے قلب و جاں میں اترے
مِری روح کی غذا ہے تِرے ذکر کا ترانہ
کوئی جرم کر کے ثابت مجھے پھر سزا سناتا
نہیں میری جان ہر گز یہ طریق عادلانہ
دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو جھکا کے بیٹھ
اے دوست اٹھ فقیر کی محفل میں آ کے بیٹھ
مت رو، گزار دھوپ کو بادل کی اوٹ سے
بن جائے گی دھنک تُو ذرا مسکرا کے بیٹھ
پاتے ہیں ماہتاب کی لو سے مٹھاس پھل
نادان اس کی نظروں سے نظریں ملا کے بیٹھ
سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے
ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے
کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں
آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟
تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام
بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے
نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں
عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں
گزر آیا جنوں کی منزلوں سے
اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں
خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر
نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں
ایک مدت سے رخ یار نہیں دیکھا ہے
نفرتیں دیکھیں مگر پیار نہیں دیکھا ہے
درد اور غم کا جو درمان بھی لے کر آئے
میں نے ایسا کوئی غمخوار نہیں دیکھا ہے
نظر آتے ہیں پجاری تو بہت دولت کے
کوئی الفت کا طلبگار نہیں دیکھا ہے
آنسو بھری آنکھوں کے دھندلکے نہیں جاتے
کچھ ایسے مناظر ہیں کہ دیکھے نہیں جاتے
دیکھو تو کئی عکس نظر آتے ہیں اِن میں
ٹوٹے ہوئے آئینے خریدے نہیں جاتے
رُک رُک کے چلے آنکھ سے اشکوں کے مسافر
بے گانگی اتنی ہے اکٹھے نہیں جاتے
المیہ
ایک در
میرے احساس کی کچی سوندھی سی دالان میں
بے صدا، بے ہوا، بے طلب، بے سبب
خواب میں وا ہوا
ایک قوس قزح، یاد کی پیار کی
شانۂ و رخ پہ ہستی کے لہرا گئی
صفحہ زیست پہ ہے
کرب کے اشکوں کی لکیر
یہ ایسا باب ہے میری حیات کا
جس کو نہ لکھنا چاہوں کبھی
اور نہ پڑھنے کی خواہش ہے
میں جی رہی ہوں اسی لمحۂ موجود میں
سوری رونگ نمبر ہے
قریباََ دو بجے کل شب
کسی یوفون کے نمبر سے
اک مِس کال آتی ہے
تو پھر جب میں اُسی نمبر پہ واپس
کال کر کے پوچھتا ہوں؛ کون؟
دن تو جوں توں چلو گزر جائے
نگھرا رات میں کدھر جائے
یہ سڑک پر پڑا ہوا اک شخص
اس کے سینے سے کار اتر جائے
گھر سے پاؤں نکل گیا اس کا
اب خدا جانے وہ کدھر جائے
تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے
یہ میرے پاؤں کی زنجیر کٹ بھی سکتی ہے
جو سچ کہا ہے تو اس کی سزا بھی جانتا ہوں
مجھے خبر ہے زباں میری کٹ بھی سکتی ہے
دلوں کے بیچ جو دوری ہے اس کو ختم کریں
یہ سرحدوں کی رکاوٹ تو ہٹ بھی سکتی ہے
ویرانئ حیات ہے بارِ گراں مجھے
بے رنگ کر گئیں سخن آرائیاں مجھے
لے آئیں تیرے پاؤں میں حسنِ لازوال
یہ حسرتیں، یہ خواب، یہ بے تابیاں مجھے
اے تاجدارِ کون و مکاں، شاہِ دو سرا
آواز دے رہا ہے تِرا آستاں مجھے
ہم نے لکھی ہے لہو سے داستاں تو کیا ہوا
اس پہ حیراں گر نہیں کون و مکاں تو کیا ہوا
ساتھ بابا کے کھلونے لینے گھر سے تھا چلا
کوئی اعزاز یتیمی جو دے واں تو کیا ہوا
لوگ کہتے تھے کہ ایسے غم میں یہ بھی روتے ہیں
جو نہیں روئے زمین و آسماں تو کیا ہوا
بِرہن
سُرخ جوڑے کی تمازت سے بھری
شامیں میری
جسم کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیتیں
بِن تمہارے نہیں لگتا ہے کہ
جی پاؤں گی
موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے نہیں دیا
اس کی کسی بھی چال کو چلنے نہیں دیا
لے کر جلو میں رات کی کرنوں کو رات بھر
مہتاب تیری یاد کا ڈھلنے نہیں دیا
یادوں کی زمہریر ہواؤں میں گم رہے
برفاب راستوں کو پگھلنے نہیں دیا
اپنی تصویر بنانے کی تمنا نہ رہی
میرے بیٹوں میں مِرا عکس نظر آنے لگا
زندگی بھر جو مجھے وقت نہیں دے پایا
اب مِری موت کے نزدیک وہ گھر آنے لگا
یعنی میں آپ کی سوچوں میں مگن رہتا ہوں
یعنی میں آپ کی اب زیر اثر آنے لگا
اے شہرِ کراچی تِری گلیوں کی بہاریں
اک دیدۂ بیدار کو ہر گام پکاریں
ہاتھوں میں تِرے پیار کی مہندی کو رچائیں
اے وقت کی دیوی! تِری زلفوں کو سنواریں
سرمست کریں رقص دھنک رنگ فضا میں
تنہا کسی وادی میں کوئی رات گزاریں
تھل کی بے مہر مسافت میں وہ ٹھنڈی چھاؤں جیسا ہے
اس کی یادوں کا زادِ سفر ماؤں کی دعاؤں جیسا ہے
اک خواب گٗلاب زمانوں کا اس نقشے پر نقش ہوا
اس کی خُوشبو سے اب عالم مخمور فضاؤں جیسا ہے
اس نے ہی بصیرت بخشی تھی بے نُور بصارت کو آ کر
اب اس سے بچھڑ کر آنکھ نگر اُجڑے ہوئے گاؤں جیسا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمدﷺ کی
ہمارے دل میں ہے جلوہ کناں صورت محمدﷺ کی
گوارا ہی نہیں عشاق کو فرقت محمدﷺ کی
رہے دونوں جہاں میں یا خدا قربت محمدﷺ کی
زہے قسمت اشارا پا کے ان کی چشم رحمت کا
غلاموں کو لبھا کر لے چلی جنت محمدﷺ کی
مِری محبت کی بے خودی کو تلاشِ حقِ جلال دینا
کبھی جو پابندۂ سِتم ہوں مجھے بھی عزمِ مقال دینا
محبتوں کی یہ شوخیاں ہیں یہ اعتمادِ وفا ہے میرا
بِگڑ کے فہرستِ عاشقاں سے کہیں نہ مجھ کو نکال دینا
رہِ محبت کی سختیوں سے جو رنگِ رُخ تھا جھلس چکا ہے
تمہاری اُلفت پہ مر رہے ہیں مِرا بھی چہرا اُجال دینا
کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا
لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا
خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا
سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو
تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا
تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں
دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں
ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا
یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں
اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں
ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا
وہ اگر ہے اسی منظر میں دکھائی دے گا
اب گلابی میں کہاں جلوۂ گلزارِ ارم
رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا
خلوتِ ناز سے دوری نے رکھا گرمِ سفر
مر ہی جاؤں گا اگر مجھ کو رسائی دے گا
وائرس
ابھی ابھی تو لب ملے تھے کتنے پیارسے
زباں پہ یہ کسِیلا پن کہاں سے آ گیا
مسیحِ وقت تم بتاؤ کیا ہوا
ذرا سی دیر کے لیے پلک جھپک گئی
تو راکھ کس طرح جَھڑی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے
نہ ساتھ آیا مِرے دل مِرا مدینے سے
وہاں قیام سخاوت کے تاجدار کا ہے
ملے گا سب کو طلب سے سوا مدینے سے
عظیم خلق پہ فائز مرے رسولِ کریمﷺ
پھر ایک بار ہو لطف و عطا مدینے سے
دل پہ اتنا ہے یاد یار کا بوجھ
پھول پہ جس طرح نکھار کا بوجھ
سچ بتاؤں کہ اب نہیں اٹھتا
میری آنکھوں سے انتظار کا بوجھ
جانے کیا ہو گیا ہے دل کو مِرے
بھاری لگتا ہے اس کو پیار کا بوجھ
لب فسردہ کو ساغر تلاش کرتا ہے
شکستہ ناؤ کو لنگر تلاش کرتا ہے
وہ کون شخص تھا جو دشت ظلمت غم میں
مسرتوں کا سمندر تلاش کرتا ہے
ضرور چھیڑے گا حق کی لڑائی کاغذ پر
قلم خیال کا لشکر تلاش کرتا ہے
دلبر اگر مہر سوں لطف کرے تو بھلا
بیدل اگر صدق سوں نہ میں مرے تو بھلا
وصل دلا رام کی صبحدم رکنے کے تئیں
ہجر کی تاریک شب بیگ سرے تو بھلا
چشم کے دو آہواں حُسن کے بُستان میں
سنبل تر یا سمن نہ سوں چیرے تو بھلا
یہ قطرہ دریا بنے اتنا اختیار تو دے
مِرے وجود کے رشتے کو کچھ قرار تو دے
غبار بن کے سرِ رہگزر بکھر جاؤں
کوئی خلوص سے آوازِ انتشار تو دے
میں جھک کے اونچے پہاڑوں سے کھائیاں پاٹوں
مجھے بھی ایسا قدِ موجِ آبشار تو دے
چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا
یوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتا
سہتا ہوں ستم اس کے احسان ہے دنیا پر
گر میں نہ وفا کرتا کیا جانیے کیا ہوتا
تم اور عدو دونوں اک جان دو قالب ہیں
میں تم سے اگر ملتا وہ کیوں کہ جدا ہوتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لولاک ہے چمن گل خوشرو حضورﷺ ہیں
ہر گل کی رگ میں صورت خوشبو حضورﷺ ہیں
ہر ظلم کے محاذ پہ سینہ سپر ہیں آپ
ہر ناتواں کی قوت بازو حضورﷺ ہیں
رہتے ہیں ممکنات ابد تک نگاہ میں
حسن ازل کی جنبش ابرو حضورﷺ ہیں
بنجر رُت کے گیت
لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں
آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے
پر جلاتی نہیں
اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں
ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی
دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے