مقام آدمی کچھ کم نہیں ہے
فرشتوں سے تو کم آدم نہیں ہے
ابھی دل جل رہا ہے آ بھی جاؤ
اُجالا چاند سے مدھم نہیں ہے
ہماری ذات پر اُنگلی اُٹھائے
زمانے میں ابھی وہ دم نہیں ہے
اُڑاتا ہے ہوا میں کیوں دوانے
یہ دامن ہے کوئی پرچم نہیں ہے
تِری مرضی ہے ساقی جس قدر دے
ہمیں تو فکر بیش و کم نہیں ہے
بُتوں کی بندگی میں کون جانے
کہاں ہے خم کہاں سر خم نہیں ہے
انہیں گر ناز ہے اپنی پہنچ پر
تو میری بھی رسائی کم نہیں ہے
کوئی کیوں غمگسار مہر ہو گا
زمانہ مونس و ہمدم نہیں ہے
مہر زریں
مہرالنساء
No comments:
Post a Comment