Saturday, 15 July 2023

میرے ہمدم میں کہ تجھ کو چاہتا تھا بھولنا

کٹھ پُتلی


میرے ہمدم

میں کہ تجھ کو چاہتا تھا بھولنا

میں کہ تیری راہ سے کترا رہا تھا

میں کہ تیری یاد سینے میں دبائے جا رہا تھا

میں کہ تیرا پیار دنیا سے چھپائے جا رہا تھا

حادثہ پھر ہو گیا

میرا دل تنہائیوں میں کھو گیا

تیرے گھر کے سامنے

میں گزرتا جا رہا تھا تیز تیز

کہ اچانک کار پنکچر ہو گئی

تیرے گھر کے سامنے

نہ ٹھہر سکتا تھا میں

نہ ہی جا سکتا تھا میں

میں بہت حیران تھا

میں بہت آزردہ تھا

وہ کہ مجھ سے پیار کرتے تھے کبھی

وہ کہ میرا نام جپتے تھے کبھی

سامنے بیٹھے رہے

پر نہ میری جانب اٹھ کر آ سکے

جیسے میں ان کا نہ تھا

جیسے میں تیرا نہ تھا

جیسے میں بے گانہ تھا

اپنی اس توہین پر

میں بہت شرمندہ تھا

میں بہت پژمُردہ تھا

تجھ سے لیکن کیا گِلہ

نہ تِرے سینے میں دل

نہ تِری کوئی امنگ

تو تو کٹھ پُتلی ہے ایک

مجھ کو تجھ سے کیا گِلہ


اصغر علی تبسم

No comments:

Post a Comment