کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا
لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا
نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں
بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا
تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری
کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا
کبھی جو وصل کا وعدہ ترا ظالم وفا ہوتا
لبوں پر آہ ہوتی اور نہ قسمت کا گِلا ہوتا
نقابِ رُخ اٹھا دیتی اگر تُو صحنِ گلشن میں
بڑا احسان مجھ پر تیرا اے بادِ صبا ہوتا
تمنا ہی تمنا میں ہماری زندگی گزری
کبھی تو حالِ دل ظالم ہمارا بھی سنا ہوتا
جو تھا ہر آن مبتلا میرا
وہ بھی سمجھا نہ ماجرا میرا
ہے محبت میں کچھ ہوس پنہاں
تو نہ کریو کبھی کہا میرا
تیرے نزدیک رہ کے بھی تجھ سے
کم ہی کم واسطہ رہا میرا
سائے کی طرح کوئی مرے ساتھ لگا تھا
کیا گھر کی طرح دشت بھی آسیب زدہ تھا
پرسش کو نہ تھا کوئی تو تنہا تھا بہت میں
محروم جو تھا سب سے خفا رہنے لگا تھا
ہر دم نئے احساس کا طوفان تھا دل میں
کیا جانیے میں کون سی مٹی سے بنا تھا
بارش رکی وباؤں کا بادل بھی چھٹ گیا
ایسی چلیں ہوائیں کہ موسم پلٹ گیا
پتھر پہ گر کے آئینہ ٹکڑوں میں بٹ گیا
کتنا مِرے وجود کا پیکر سمٹ گیا
کٹتا نہیں ہے سرد و سیہ رات کا پہاڑ
سورج تھا سخت دھوپ تھی دن پھر بھی کٹ گیا
منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے
بھائی جب آج دست و گریبان ہو گئے
ماں باپ چاہتے تھے رہیں اتفاق سے
قربان ان کے آج سب ارمان ہو گئے
بلبل نے میرے ہاتھ میں کلہاڑا دیکھ کر
کہنے لگا یہ باغ اب ویران ہو گئے