قیمت شناسِ دل، سرِ بازار کون ہے
اس جنسِ بے بہا کا خریدار کون ہے
ہم نے روش روش پہ بکھیرا ہے خونِ دل
ہم سے سوا بہار کا حق دار کون ہے
ہم جانتے ہیں دوستو! آدابِ انجمن
ہم سے زیادہ نقش بہ دیوار کون ہے
کبھی حیات کا غم ہے، کبھی تِرا غم ہے
ہر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ہے
خیال تھا تِرے پہلو میں کچھ سکون ہو گا
مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ہے
مِرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا
خدا گواہ، مجھے آج بھی ترا غم ہے