Tuesday, 1 December 2015

قیمت شناس دل سر بازار کون ہے​

قیمت شناسِ دل، سرِ بازار کون ہے​
اس جنسِ بے بہا کا خریدار کون ہے​
ہم نے روش روش پہ بکھیرا ہے خونِ دل​
ہم سے سوا بہار کا حق دار کون ہے​
ہم جانتے ہیں دوستو! آدابِ انجمن​
ہم سے زیادہ نقش بہ دیوار کون ہے​

دوستوں سے پیار دشمن سے حذر کرتے رہے

دوستوں سے پیار دشمن سے حذر کرتے رہے
حسبِ توفیق امتیازِ خیر و شر کرتے رہے
دل کی دھڑکن بند ہو جانے پہ یہ عقدہ کھلا
دل کی ہر خواہش پہ ہم صرفِ نظر کرتے رہے
تیری محفل میں اڑا لائی ہوائے شوقِ دید
لاکھ ہم عذرِ شکستِ بال و پر کرتے رہے

قصہ یاراں حدیث دیگراں لکھتے رہے​

قصۂ یاراں، حدیثِ دیگراں لکھتے رہے​
ہم جو لکھنا چاہتے تھے وہ کہاں لکھتے رہے​
دل کا ایک اک حرف ایک اک حرفِ جاں لکھتے رہے​
میری ساری زندگی کرّ و بیاں لکھتے رہے​
قربتوں کے سر قلم کرتے رہے اہلِ قلم​
فاصلے اک دوسرے کے درمیاں لکھتے رہے​

غم حیات میں کوئی کمی نہیں آئی

غمِ حیات میں کوئی کمی نہیں آئی
نظر فریب تھی تیری جمال آرائی
وہ داستاں جو تِری دلکشی نے چھیڑی تھی
ہزار بار مِری سادگی نے دہرائی
تِری وفا، تِری مجبوریاں بجا، لیکن
یہ سوزشِ غمِ ہجراں، یہ سرد تنہائی

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے
آج محفل میں تِرے نام پہ پیمانے چلے
ابھی تُو نے دلِ شوریدہ کو دیکھا کیا ہے
موج میں آئے تو طوفانوں سے ٹکرانے چلے
دیکھیں اب رہتا ہے کس کس کا گریباں ثابت
آج ہر سمت سے پر سوختہ پروانے چلے

کبھی حیات کا غم ہے کبھی ترا غم ہے

 کبھی حیات کا غم ہے، کبھی تِرا غم ہے

ہر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ہے

خیال تھا تِرے پہلو میں کچھ سکون ہو گا

مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ہے

مِرے حبیب مری مسکراہٹوں پہ نہ جا

خدا گواہ، مجھے آج بھی ترا غم ہے

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا
چاند کے پہلو میں دَم سادھ کے روتی ہے کرن
آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا