Thursday, 21 June 2018

یاد خوش رنگ سے کچھ ایسے اجالی میں نے

یادِ خوشرنگ سے کچھ ایسے اجالی میں نے
ہجر کی شام بنا لی ہے وصالی میں نے
رختِ پرواز کی آسودگی اوروں کو مِلی
عمر بھر جھیلی مگر بے پر و بالی میں نے
رنگ جتنے تھے، چُرا لے گئی دنیا تیرے
جتنی خوشبو تھی مِری جان! سنبھالی میں نے

Wednesday, 20 June 2018

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں

تُو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں
بس تِری مان کے میں کود پڑا پانی میں
یوں ہوۓ تھے مِرے اوسان خطا پانی میں
سانس لینا بھی مجھے بھول گیا پانی
اس قدر شور کی عادی نہ تھی آبی دنیا
جس قدر زور سے میں جا کے گرا پانی میں

شیشے کا برگد

شیشے کا برگد

مرے آنگن کے برگد میں
کسی نے کانچ کا پیوند ڈالا ہے
جبھی تو
کرچیاں اگتی ہیں شاخوں پر
شجر کے ان بلوری مرتبانوں میں

Sunday, 10 June 2018

سارے رشتے محترم ہوتے ہیں لیکن ماں سے کم

سارے رشتے محترم
ہوتے ہیں، لیکن ماں سے کم
ماں سے بڑھ
کر کون 
ہوتا ہے شریکِ رنج و غم؟

اعتبار ساجد

مرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں

مرے بچے مجھ سے پوچھتے ہیں
کیوں اتنا لکھتے ہیں پاپا؟
اتنی تو کتابیں لکھ ڈالیں
اتنی تو شہرت حاصل کی
اتنی تو عزت حاصل کی
اب اور بھلا کیا چاہتے ہیں؟

تم آج بہت رنحیدہ ہو

تم آج بہت رنحیدہ ہو
کیوں آئی کٹہرے میں بیٹی
جو شہزادی کہلاتی ہے
تاریخ کی لیکن عادت ہے
یہ اپنی کتھا دہراتی ہے
تمہیں وہ عورت یاد آتی ہے؟

الیکشن آنے والے ہیں

الیکشن آنے والے ہیں

سمجھ میں کچھ نہیں آتا
ہم اپنا ووٹ کس کو دیں؟
کوئی قاتل، کوئی رہزن
کوئی ڈیزل، کوئی انجن
کہیں ہیں نان قیمے کے
کہیں انبار سکے کے