Sunday, 2 June 2013

تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے

 تیرے جانے سے زیادہ ہیں، نہ کم پہلے تھے
 ہم کو لاحق ہیں وہی اب بھی جو غم پہلے تھے
 کوئی راہرو ہی ملا، اور نہ کوئی نقشِ قدم
 عشق کی راہ میں لگتا ہے کہ ہم پہلے تھے
 میں نے تیشے سے مقدر کی لکیریں بدلیں
 اب نہیں سانحے قسمت میں رقم پہلے تھے

دشت تنہائی میں بے کار ہوا کرتے ہیں

دشت تنہائی میں بے کار ہوا کرتے ہیں
 ہم تِرے ہجر میں مسمار ہوا کرتے ہیں
جب ترے روپ کو آنکھوں میں سجاتا ہوں تو یار
 روح کے دشت بھی گلزار ہوا کرتے ہیں
تیرگی اپنے مقدر میں بسی ہے، لیکن
 ہم تِرے لمس سے ضوبار ہوا کرتے ہیں

پہلے سفر نصیب کو صحرا دیا گیا

پہلے سفر نصیب کو صحرا دیا گیا
پھر دوپہر کے وقت کو رُکوا دیا گیا
خوشرنگ موسموں کی کہانی گھڑی گئی
مصنوعی خوشبووں کا حوالہ دیا گیا
پہرے بٹھا دیے گئے کلیوں پہ جبر کے
بادِ صبا کو دیس نکالا دیا گیا

Saturday, 1 June 2013

کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بہ سو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

 کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سُو بہ سُو
گوشہ بگوشہ دربدر قریہ بہ قریہ کُو بہ کُو
اشک فشاں ہے کس لیے، دیدۂ منتظر میرا
دجلہ بہ دجلہ یم بہ یم چشمہ بہ چشمہ جُو بہ جُو
میری نگاہِ شوق میں حُسنِ ازل ہے بے حجاب
غُنچہ بہ غُنچہ گُل بہ گُل لالہ بہ لالہ بُو بہ بُو

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم
 گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم
 صدیوں تک اہتمامِ شبِ ہجر میں رہے
 صدیوں سے انتظارِ سحر کر رہے ہیں ہم
 صبحِ ازل سے شامِ ابد تک ہے ایک دن
 یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم

اجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانی

اُجلا ترا برتن ہے اور صاف ترا پانی
 اِک عمر کا پیاسہ ہوں مجھ کو بھی پلا پانی
 ہے اِک خطِ  نادیدہ دریائے محبت میں
 ہوتا ہے جہاں آ کر پانی سے جُدا پانی
 دونوں ہی تو سچے تھے، الزام کسے دیتے
 کانوں نے کہا صحرا آنکھوں نے سُنا پانی

یہ جو ایک دست سوال ہے ترے سامنے

یہ جو ایک دستِ سوال ہے تِرے سامنے
 کوئی غم سے کتنا نڈھال ہے ترے سامنے
 میں پڑا ہوں قریۂ ہجر کے اسی کنج میں
 مگر ایک شہرِ وصال ہے ترے سامنے
 یہاں عرضِ حال پہ کس کو اتنا عبور ہے
 یہاں کس کی اتنی مجال ہے ترے سامنے