Saturday, 6 June 2020

مفلسی میں بھی محبت کو غنیمت جانا

مفلسی میں بھی محبت کو غنیمت جانا
ہم نے ہر طور عبادت کو غنیمت جانا
ہم کو عجلت تھی کہانی سے نکل جاۓ کی
خود کشی جیسی حماقت کو غنیمت جانا
عین ممکن ہے کہ اظہار پہ وہ چھوڑ ہی دے
ہم نے خاموش محبت کو غنیمت جانا

سبھی مے کش توازن کھو رہے ہیں

سبھی مے کش توازن کھو رہے ہیں
خدا سے بے تکلف ہو رہے ہیں
کسی کی آنکھ "بنجر" ہو گئی ہے
کسی کے اشک برتن دھو رہے ہیں
کہیں پر سوگ واجب ہو رہا ہے
کسی کے فرض پورے ہو رہے ہیں

تمہارا ہجر اسے آبشار کرتا تھا

تمہارا ہجر اسے "آبشار" کرتا تھا
ہماری آنکھ پہ تھل انحصار کرتا تھا
وہ پھول دیکھنے آتا تھا باغ میں ہر روز
میں خوشبوؤں کو وسیلہ شمار کرتا تھا
حضور آپ تو دل دے کے چیختے ہیں بہت
میں ایک شخص پہ جاں تک نثار کرتا تھا

Thursday, 4 June 2020

لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے

یہ کھائی مسئلے کا حل نہیں ہے
جدائی مسئلے کا حل نہیں ہے
زمینی مسئلوں کا حل نکالو
خدائی مسئلے کا حل نہیں ہے
لڑائی ہی ہمارا مسئلہ ہے
لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے

اونچائیوں سے ہم ترے معیار پر گرے

اونچائیوں سے ہم تِرے معیار پر گرے
جیسے کوئی پہاڑ، کسی غار پر گرے
دو تین بار عشق میں ناکامیاں ہوئیں
دو تین رنگ ایک ہی دیوار پر گرے
اک رات کہکشاں مِری آغوش میں رہی
اور سب ستارے ٹوٹ کے دیوار پر گرے

یہ کیا ہوا میں اڑے اور پروں سے شعر کہے

یہ کیا ہوا میں اڑے اور پروں سے شعر کہے
نئے پرند سے کہہ دو، سکوں سے شعر کہے
جب اک غزل سے نہ ٹوٹا وہ سومنات بدن
تو میں نے سترہ نئے زاویوں سے شعر کہے
ہر ایک شخص پہ کُھلتا کہاں ہے بابِ عطا
عزیز! ہم نے بڑی منتوں سے شعر کہے

ہے عجب رنگ کی وحشت ترے دیوانے میں

ہے عجب رنگ کی وحشت تِرے دیوانے میں
جی نہ آبادی میں لگتا ہے، نہ ویرانے میں
ہوں وہ میکش کہ نہ مستی میں کہوں راز کبھی
لاکھ قُل قُل کہے شیشہ مجھے مے خانے میں
حشر تک جی میں ہے بے ہوش رہوں میں ساقی
کاش مے بھر دے مِری عمر کے پیمانے میں