Monday, 16 November 2015

بام و در ٹوٹ گئے بہ گیا پانی کتنا

بام و در ٹوٹ گئے بہ گیا پانی کتنا
اور برباد  کرے گی یہ  جوانی کتنا
رنگ کمہلا دیا، بالوں میں بھر دی چاندی
طول کھینچے گی ابھی اور کہانی کتنا
یہ تلاطم، یہ انا، آبلہ پائی، یہ جنوں
ہم بھی دیکھیں گے کہ ہے جوش جوانی کتنا

دھیرے دھیرے پھیل رہا ہے جانے کیسا روگ

دھیرے دھیرے پھیل رہا ہے جانے کیسا روگ
سونی سونی ساری بستی، سہمے سہمے لوگ
چپکے چپکے کر جاتی ہے ہونی اپنا کاج
سمے سمے پر آ جاتا ہے دبے پاؤں سنجوگ
اندھیاروں کے پیچھے نگری بستی ہے اِک اور
اس نگری میں گر رہنا ہے جو پائے سو بھوگ

انصاف جو نادار کے گھر تک نہیں پہنچا

انصاف جو نادار کے گھر تک نہیں پہنچا
سمجھو کہ ابھی ہاتھ ثمر تک نہیں پہنچا
مژگاں پہ رکے ہیں ابھی ڈھلکے نہیں آنسو
یہ سوچ کا سیلاب سفر تک نہیں پہنچا
کچھ لوگ ابھی خیر کی خواہش کے امیں ہیں
دستار کا جھگڑا ابھی سر تک نہیں پہنچا

حادثے حق کی حمایت نہیں کرنے دیتے

حادثے حق کی حمایت نہیں کرنے دیتے
گویا کچھ لوگ عبادت نہیں کرنے دیتے
کیا قیامت ہے کہ اب تو مِری سرکار کے لوگ
مجھ کو نفرت سے بھی نفرت نہیں کرنے دیتے
تشنگی حد سے بڑھتی جاتی ہے اہل دل کی
پھر بھی ساقی کی شکایت نہیں کرنے دیتے

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے

کسی گھر کو جلا دینے سے پہلے
ذرا سوچو ہوا دینے سے پہلے
ہر اک فرعون کو ملتی ہے مہلت
کلیمی کا عصا دینے سے پہلے
کوئی جھوٹی گواہی بھی نہیں تھی
میرے سچ کو سزا دینے سے پہلے

بحر و بر افلاک و انجم سخت حیرانی میں تھے

بحر و بر افلاک و انجم سخت حیرانی میں تھے
کتنے ہیبت ناک منظر شکلِ انسانی میں تھے
سر بہ سجدہ تھے نظر تک سلسلے اشجار کے
دُور تک پھیلے ہوئے صحرا دعا خوانی میں تھے
ہم کسی چہرے میں آ کر جلوہ گر کب ہو سکے
عکس کے مانند ہم بہتے ہوئے پانی میں تھے

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں

کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں
ہم اسی دشت کو گھر جانتے ہیں
جان کر چپ ہیں وگرنہ ہم بھی
بات کرنے کا ہنر جانتے ہیں
یہ مہم ہدیۂ سر مانگتی ہے
اس میں ہے جاں کا خطر جانتے ہیں