Saturday, 27 March 2021

عجب طرح کا یہ جوش وصال ہے دل میں

 عجب طرح کا یہ جوشِ وصال ہے دل میں

دماغ میں نہیں تیرا خیال ہے دل میں

مزاجِ یار کی کرتے بھی کیا شکایت ہم

ہمیں خبر تھی کہ رہنا محال ہے دل میں

مِری خموشی وضاحت طلب نہ تھی لیکن

تِرے رویے کا کتنا ملال ہے دل میں

ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہے

 ایک دو اشک بہاتی ہے چلی جاتی ہے

اب تِری یاد بھی آتی ہے چلی جاتی ہے

وہ مِری دوست جسے بعد مِرے چاہا تھا

مجھ سے نظروں کو چُراتی ہے چلی جاتی ہے

کبھی دہشت نے بگاڑے تھے، پر اب تنہائی

خود مِرے بال بناتی ہے، چلی جاتی ہے

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

 ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

راہِ الفت پہ مگر لوگوں کو چلتے دیکھا

نفرتیں مل گئیں معصوم دلوں میں اکثر

چاہتوں کو دلِ سفاک میں پلتے دیکھا

آزمائش ہے، اجازت ہے کہ مجبوری ہے

ظلم کو ہم نے یہاں پھُولتے پھلتے دیکھا

تم جمہوریت نہیں ہو کبھی جمہوریت نہیں رہے

 کمرہ عدالت


تم جمہوریت نہیں ہو

کبھی جمہوریت نہیں رہے

کبھی باعزت نہیں رہے

تم قابلِ عزت نہیں ہو

کیونکہ تم نے سبق نہیں سیکھا

جہاں تم ہو آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

 جہاں تم ہو 


آنکھ ہی درد پہچانتی ہے

میں اس روٹ پر

پہیلی گاڑی کا مہماں تھا

بے طرح گھومتی گیند پر اب نفس جتنے انفاس کا اور مہمان ہے

ان کی گنتی مِری داستاں میں نہیں

منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیا

 منہ پھیر کر وہ سب سے گیا بھی تو کیا گیا 

کم بخت سارے شہر کو پاگل بنا گیا 

پتھر کو بولنے کی ادائیں سکھا گیا 

وہ شخص کیسے کیسے تماشے دکھا گیا

اس کو یہاں سے جانے کا بے حد ملال تھا 

مڑ مڑ کے اپنے گھر کی طرف دیکھتا گیا 

ہر دعا اگر قبول ہو جائے

 ہر دعا اگر قبول ہو جائے

زندگی ہی فضول ہو جائے

یہ دعا ہے کہ اپنی ہستی بھی

ان کے قدموں کی دھول ہو جائے

رشک آتا ہے اس کی قسمت پہ

جس کی توبہ قبول ہو جائے