شکریہ یار! دل دُکھانے کا
پہلے یہ کام تھا زمانے کا
روز ہوتا ہے سامنا دکھ سے
جیسے اک فرد ہو گھرانے کا
تو مجھے گنگنا اکیلے میں
انترا ہوں اداس گانے کا
شکریہ یار! دل دُکھانے کا
پہلے یہ کام تھا زمانے کا
روز ہوتا ہے سامنا دکھ سے
جیسے اک فرد ہو گھرانے کا
تو مجھے گنگنا اکیلے میں
انترا ہوں اداس گانے کا
سال شروع ہونے پر میں نے
سُنی تری آواز
اور کیا آغاز
رات تِری آواز کی سرسبز و شاداب فضا میں
وصل تِرے کے دِیپ جلے
کچھ ایسے تیز ہوا میں
ہجر میں جتنا فاصلہ ہو گا
اک دِیا پھر بھی جل رہا ہو گا
کس قدر شوقِ خود نمائی ہے
آئینہ خود پہ ہنس رہا ہو گا
حادثہ کل کوئی ہوا تو تھا
شور مٹی میں دب گیا ہو گا
لوٹ آئے گا دیکھنا مِرے دوست
جگمگائے گا راستہ مرے دوست
حضرتِ داغ کے میں سائے میں ہوں
حضرتِ جون ایلیا مرے دوست
کچھ گنہ گار بھی ہیں یار مِرے
اور ہیں چند پارسا مرے دوست
دھو لیا داغ ہم نے دامن کا
شکریہ، آنسوؤں کے ساون کا
زندگی بھر نہ ہو سکا پورا
خواب اس آرزو کی دلہن کا
جس سے ملے وہ خود میں الجھا ہے
ہر کوئی ہے شکار الجمن کا
بدن میں چبھن اور دل جل رہا ہے
کہ سینے میں کوئی ستم پل رہا ہے
نہیں شے کو حاصل زمانے میں دائم
تغیّر جہاں میں مسلسل رہا ہے
چلو گھر چلیں ہم کہ اب رات آئی
جوانی کا سورج بھی اب ڈھل رہا ہے
گزرے جو حوادث نہیں آئیں گے گماں میں
ہے خاک بدن چاک جگر عشق بتاں میں
استاد کسی اور کو خاطر میں نہ لائے
اِترائے سرِ عام کہ ہوں اہلِ زباں میں
ہر لفظ ہے اشعار کا آواز دلوں کی
ہے نقص کہیں بول مِرے طرزِ بیاں میں