Monday, 1 May 2023

دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے

 دل میں اک ٹیس اٹھی آنکھ میں آنسو جاگے

شام ہوتے ہی تِری یاد کے جگنو جاگے

اور ہو جائے گی باغوں کی فضا عطر افشاں

تو اگر آئے تو صحراؤں میں خوشبو جاگے

کھل اگر جائیں سیہ مست گھنیرے گیسو

سارے ماحول میں بنگال کا جادو جاگے

میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب

 میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجب

جی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجب

وعدہ خلافیوں سے تیری ہے دل میں شبہہ

ہووے جو حشر میں بھی دیدار ہے تعجب

تم کہتے ہو کہ وہ آتا ہے پاس تیرے

اس یار سے تو یارو بسیار ہے تعجب

ختم تم پر نبوت کا ہے سلسلہ خاتم الانبیاء

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


ختم تُم پر نبوّت کا ہے سلسلہ، خاتم اُلانبیاءﷺ

شان کے ہےجو شایاں وہ رتبہ ملا، خاتم الانبیاء

اوّلیں بھی رسُلؑ میں تمہیؐ کو کیا، خاتم الانبیاء

یہ شرف بھی خدا نے تمہیؐ کو دیا،خاتم الانبیاء

آپؐ جیسی عطا، نہ کسی میں سخا، خاتم الانبیاء

آپؐ سا جُود دیکھا کہیں، نہ سُنا، خاتم الانبیاء 

نازاں ہے جس پہ حسن وہ حسن رسول ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


نازاں ہے جس پہ حُسن، وہ حُسنِ رسولؐ ہے 

یہ کہکشاں تو آپؐ کے قدموں کی دُھول ہے 

اے رہروانِ شوق یہاں سر کے بل چلو 

طیبہ کے راستے کا تو کانٹا بھی پھول ہے 

ہر اک قدم میں اس پہ ضروری ہے احتیاط 

عشقِ بُتاں نہیں ہے یہ عشقِ رسولﷺ ہے 

کن کی تجلیات محمد کی ذات ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


کُن کی تجلیات محمدﷺ کی ذات ہے

نُورِ الہیّات محمدﷺ کی ذات ہے

عکسِ جمالیات محمدﷺ کی ذات ہے

آئینہ دارِ ذات محمدﷺ کی ذات ہے

بعد از خدا کی ذات محمدﷺ کی ذات ہے

اللہ کی صفات محمدﷺ کی ذات ہے

نور کی انجمن فاطمہ مرکز پنجتن فاطمہ

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نور کی انجمن فاطمہؑ، مرکز پنجتن فاطمہؑ

کہکشاں سے بھی زیادہ حسِینؑ، تیرے گھر کا چمن فاطمہؑ

خلد کا عرش پر ہے دماغ، چھو كے تیرے چرن فاطمہؑ

عرش سے بن كے آئی ہے تو، مرتضیٰؑ کی دلہن فاطمہؑ

تیرے شوہر كے در سے ملا، ہم کو رزق سخن فاطمہؑ

ہے مشیت تیرے ساتھ یوں، جیسی چھوٹی بہن فاطمہؑ

دیکھ اے دل یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


دیکھ اے دل یہ کہیں مژدہ کوئی لائی نہ ہو

اس دیارِ پاک سے چل کر صبا آئی نہ ہو

راہِ طیبہ میں خیالِ ہوش و دانائی نہ ہو

کیا سفر کا لطف جب تک بے خودی چھائی نہ ہو

انﷺ کا جلوہ ہو، ہمارے قلب کا آئینہ ہو

اور کوئی دوسری صورت سے رعنائی نہ ہو