Monday, 31 August 2015

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
جو دکھاتا ہے زمانہ دیکھو
وقت کے پاس ہیں کچھ تصویریں
کوئی ڈوبا ہے کہ ابھرا دیکھو
رنگ ساحل کا نکھر آئے گا
دو گھڑی جانب دریا دیکھو

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو
لگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو
شوقِ نظارہ کا پردہ اٹھا
نظر آنے لگی دنیا ہم کو
کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو

Saturday, 29 August 2015

کچھ اس انداز سے اس فتنہ پرور کا پیام آیا

کچھ اس انداز سے اس فتنہ پرور کا پیام آیا
نہ دنیا میرے کام آئی نہ میں دنیا کے کام آیا
بہارِ مے کدہ، تقسیم ہونے کو ہوئی، لیکن
مِرے حصے میں تم آئے، نہ مے آئی نہ جام آیا
غمِ ایام، تیری برہمی کا نام ہے شاید
جہاں تیری نظر بدلی، وہیں مشکل مقام آیا

آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی

آئی نہ پھر نظر کہیں، جانے کدھر گئی
ان تک تو ساتھ گردشِ شام و سحر گئی
کچھ اتنا بے ثبات تھا ہر جلوۂ حیات
لوٹ آئی زخم کھا کے جدھر بھی نظر گئی
نادم ہے اپنے اپنے قرینے پہ ہر نظر
دنیا لہو اچھال کے کتنی نکھر گئی

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
ہم بھی نیند کی صورت اڑتے جاتے ہیں
جب انداز بہاروں کے یاد آتے ہیں
ہم کاغذ پر کیا کیا پھول بناتے ہیں
وقت کا پتھر بھاری ہوتا جاتا ہے
ہم مٹی کی صورت دیتے جاتے ہیں

تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے

تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے
چپ نہ ہوتے تھے مگر چپ ہو گئے
سوچ کر آئے تھے ہم کیا کیا، مگر
رنگِ محفل دیکھ کر چپ ہو گئے
کیا کبھی اس کا بھی آٰیا ہے خیال؟
کیوں ترے شوریدہ سر چپ ہو گئے

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
متاعِ درد تو ہم راہ میں لٹا آئے
وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی
ہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے
کسی مقامِ تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں
ہمارے سامنے اپنے ہی نقشِ پا آئے