Friday, 9 December 2022

ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں

 ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں

خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں

پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر

پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں

جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی

اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں

Thursday, 8 December 2022

کس نے روداد غم سنی ہے دوست

 کس نے رودادِ غم سنی ہے دوست

شہر کا شہر مطلبی ہے دوست

شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں کی

کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست

کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں

ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست

یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف

 یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف

تُراب میری طرف، اور آب اس کی طرف

نہ جانے کس نے بنائی ہے دوغلی تصویر

ہیں خار میری طرف اور گلاب اس کی طرف

یوں اپنا نامۂ اعمال کر لیا تقسیم

گُناہ میری طرف ہیں، ثواب اس کی طرف

جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ

جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ

مِری نگاہ کا مرکز ہے جو اشارہ، سمجھ

جو ایک نانِ شبینہ بھی روز مل جائے

خدا کا شُکر بجا لا، اسے گزارہ سمجھ

کسی کی یاد کی خُوشبو سُلگ بھی سکتی ہے

جو اُڑتا پھرتا ہے جگنو اسے شرارہ سمجھ

تمہارے ہجر میں خواب و خیال بھٹکے ہیں

تمہارے ہجر میں خواب و خیال بھٹکے ہیں

کہاں کہاں مِرے دست سوال بھٹکے ہیں

پھرے ہیں گرد تِرے گردش جہاں کی طرح

مثال روز و شب و ماہ و سال بھٹکے ہیں

عجب ہے کوچۂ جاناں کہ آخر شب میں

بڑے غیور بڑے با کمال بھٹکے ہیں

خشک خشک آنکھوں کا اور کیا کیا جائے

 خشک خشک آنکھوں کا، اور کیا کیا جائے

گاہے گاہے اشکوں سے، ان کو دھو لیا جائے

ٹھیک ہے کہ سینے میں گُھٹ رہی ہیں آوازیں

کوئی سننے والا ہو، تب تو کچھ کہا جائے

ورنہ عمر بھر اک ڈر، پاؤں روک رکھے گا

وقت آ گیا ہے اب، بھیڑ میں چلا جائے

وقت کو گزرنا ہے اور گزر ہی جائے گا

 کیا یہ ہو بھی سکتا ہے


وقت کو گزرنا ہے، اور گزر ہی جائے گا

اس نے کب سنی کس کی، میری کب وہ مانے گا

چھین بھی تو سکتا ہے، زندگی کے سارے رنگ

تیز دھار میں اس کی، بہہ بھی سکتی ہے امید

ہر متاعِ 💓دل میری، ہر اثاثہ، سرمایہ