ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں
خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں
پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر
پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں
جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی
اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں
ہر قدم اک نئے آزار پہ رکھ دیتا ہوں
خار سے بچتا ہوں انگار پہ رکھ دیتا ہوں
پھول پھینکے کوئی دیوار کے پیچھے سے اگر
پھر اٹھا کر اسے دیوار پہ رکھ دیتا ہوں
جنگجو ایسا کہ خود ہارتا ہوں ہر بازی
اور الزام میں تلوار پہ رکھ دیتا ہوں
کس نے رودادِ غم سنی ہے دوست
شہر کا شہر مطلبی ہے دوست
شب کے بُجھتے ہوئے چراغوں کی
کیوں ہواؤں سے دوستی ہے دوست
کس طرح کوئی غم چھپاؤں میں
ماں تو چہرے کو دیکھتی ہے دوست
یہ صحرا میرا ہے جھیلم چناب اس کی طرف
تُراب میری طرف، اور آب اس کی طرف
نہ جانے کس نے بنائی ہے دوغلی تصویر
ہیں خار میری طرف اور گلاب اس کی طرف
یوں اپنا نامۂ اعمال کر لیا تقسیم
گُناہ میری طرف ہیں، ثواب اس کی طرف
جو میں نے شعر میں برتا ہے استعارہ سمجھ
مِری نگاہ کا مرکز ہے جو اشارہ، سمجھ
جو ایک نانِ شبینہ بھی روز مل جائے
خدا کا شُکر بجا لا، اسے گزارہ سمجھ
کسی کی یاد کی خُوشبو سُلگ بھی سکتی ہے
جو اُڑتا پھرتا ہے جگنو اسے شرارہ سمجھ
تمہارے ہجر میں خواب و خیال بھٹکے ہیں
کہاں کہاں مِرے دست سوال بھٹکے ہیں
پھرے ہیں گرد تِرے گردش جہاں کی طرح
مثال روز و شب و ماہ و سال بھٹکے ہیں
عجب ہے کوچۂ جاناں کہ آخر شب میں
بڑے غیور بڑے با کمال بھٹکے ہیں
خشک خشک آنکھوں کا، اور کیا کیا جائے
گاہے گاہے اشکوں سے، ان کو دھو لیا جائے
ٹھیک ہے کہ سینے میں گُھٹ رہی ہیں آوازیں
کوئی سننے والا ہو، تب تو کچھ کہا جائے
ورنہ عمر بھر اک ڈر، پاؤں روک رکھے گا
وقت آ گیا ہے اب، بھیڑ میں چلا جائے
کیا یہ ہو بھی سکتا ہے
وقت کو گزرنا ہے، اور گزر ہی جائے گا
اس نے کب سنی کس کی، میری کب وہ مانے گا
چھین بھی تو سکتا ہے، زندگی کے سارے رنگ
تیز دھار میں اس کی، بہہ بھی سکتی ہے امید
ہر متاعِ 💓دل میری، ہر اثاثہ، سرمایہ